
نئی دہلی، 04 مئی (ہ س)۔ پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے مغربی بنگال میں بڑی اکثریت حاصل کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بی جے پی کے کھاتے میں ایک اور ریاست کا اضافہ ہوگیا ہے۔ آسام اور پڈوچیری میں بی جے پی اور این ڈی اے کی حکومت اقتدار میں واپس آگئی ہے ۔ دو بڑی جنوبی ریاستوں کیرالہ اور تمل ناڈو میں اقتدار کی تبدیلی ہونے جا رہی ہے۔ کیرالہ میں، بائیں بازو کی جماعتوں کو ہٹا کر 10 سال بعد کانگریس کی قیادت والے اتحاد نے واپسی کی ہے۔ تمل ناڈو میں اداکار وجے کی پارٹی ٹی وی کے، جس کا قیام ایک سال قبل کیا گیا تھا، سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔
الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر رات 8 بجے تک درج ذیل اعداد و شمار د کے مطابق صورتحال اس طرح ہے ۔
مغربی بنگال
293 رکنی مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں اکثریت کے لیے 147 نشستوں کی ضرورت ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے 206 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے یا آگے چل رہی ہے، ترنمول کانگریس 81، کانگریس 2، سی پی آئی (ایم) 1اور دیگر ایک پر آگے ہیں۔ بی جے پی کو 45.75 فیصد ووٹ ملے ہیں، جب کہ ترنمول کانگریس کو 40.82 فیصد ووٹ ملے ہیں۔
تمل ناڈو
تمل ناڈو کی 234 نشستوں میں اکثریت کے لیے 118 نشستیں درکار ہیں۔ یہاں ٹی وی کے 106 سیٹوں پر، ڈی ایم کے 60 سیٹوں پر، اے آئی ڈی ایم کے 47 سیٹوں پر،پی ایم کے 5 سیٹوں پر، کانگریس 5 سیٹوں پر آگے ہے۔ بی جے پی نے ایک سیٹ جیتی ہے اور دیگر پارٹیاں 11 سیٹوں پر جیتی ہیں یا آگے چل رہی ہیں۔ ٹی وی کے کواب تک 34.91 فیصد، ڈی ایم کے کو 24.19 فیصد، اے آئی ڈی ایم کے کو 21.32 فیصد ووٹ ملے ہیں۔
آسام
آسام میں 126 سیٹیں ہیں اور اکثریت کے لیے 64 سیٹیں درکار ہیں۔ بی جے پی کی زیر قیادت اتحاد 102 سیٹوں پر جیت چکا ہے یا آگے ہے۔ ان میں سے بی جے پی 82 سیٹوں پر، بوڈو پیپلز فرنٹ 10 سیٹوں پر اور آسوم گنا پریشد 10 سیٹوں پر جیت چکی ہے یا آگے چل رہی ہے۔وہیں کانگریس نے 19 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے یا آگے چل رہی ہے، 2 پر اے آئی یو ڈی ایف، 2 پر رائیجور دل اور ترنمول کانگریس 1 سیٹ پرجیت چکی ہے یا آگے چل رہی ہیں۔
سب سے بڑی پارٹی، بی جے پی نے 37.91 فیصد ووٹ حاصل کیے، جب کہ اس کی اتحادی بوڈولینڈ پارٹی (بی ڈی پی) اور اے جی پی (اے جی پی) کو بالترتیب 3.74 فیصد اور 6.46 فیصد ووٹ ملے۔ اتحاد کے لیے یہ اعداد وشمار 48 فیصد سے زیادہ ہے۔
کیرالہ
کیرالہ میں کانگریس کی قیادت میں یو ڈی ایف اتحاد 97 کے اعداد و شمار تک پہنچ گیا ہے۔ اس میں کانگریس نے 63، انڈین یونین مسلم لیگ نے 22، کیرالہ کانگریس نے 7 سیٹیں، ریوولیوشنری سوشلسٹ پارٹی 3، راشٹریہ جنتا دل 1 سیٹ اور دیگر نے کامیابی حاصل کی ہے یا آگے چل رہے ہیں۔ جبکہ بائیں بازو کی جماعتوں کے اتحاد کو 36 سیٹوں پر جیت یا برتری حاصل ہے۔ اتحاد میں، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) نے 26 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے یا آگے چل رہی ہے، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے 8، ریوولیوشنری مارکسسٹ پارٹی آف انڈیا، کمیونسٹ مارکسسٹ پارٹی کیرالہ اسٹیٹ کمیٹی نے 1-1 سیٹ پر کامیابی حاصل کی ہے یا آگے چل رہی ہے۔ دیگر جماعتوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے 3 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے اور دیگر امیدوار 4 نشستوں پر آگے ہیں۔
پڈوچیری
پڈوچیری کی 30 سیٹوں پر اکثریت حاصل کرنے کے لیے 16 سیٹوں کی ضرورت ہے۔ یہاں آل انڈیااین آر کانگریس کی قیادت میں اتحاد نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور کل 18 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ اس میں پارٹی نے 12، اتحادی بھارتیہ جنتا پارٹی نے 4، آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کزگم اور لا چیاجن نائک کاچی نے ایک ایک سیٹ جیتی ہے۔ اگر ہم دوسری پارٹیوں کی بات کریں تو ڈی ایم کے نے 6 سیٹیں جیتی ہیں، کانگریس نے 1 سیٹ جیتی ہے۔ ٹی وی کے نے 2 سیٹیں جیتی ہیں، نیئم مکل کزگم نے 1 سیٹ جیتی ہے۔ اس کے علاوہ 3 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔
ضمنی انتخابات
اسمبلی ضمنی انتخابات کے نتائج بھی بی جے پی کے حق میں رہے ۔ پارٹی نے سات میں سے چار سیٹوں پر کامیابی حاصل کی، جبکہ اس کے اتحادی امیدوار نے ایک سیٹ جیتی۔ کرناٹک میں کانگریس نے دونوں سیٹیں جیت لی ہیں۔
پانچ ریاستوں کی سات اسمبلی سیٹوں کے ضمنی انتخابات میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی سنیترا پوار نے مہاراشٹر کی بارامتی سیٹ سے بڑے فرق سے کامیابی حاصل کی۔ راہوری سے بی جے پی امیدوار اکشے کرڈیلے جیت گئے، بی جے پی امیدوار ہرشد بھائی گووند بھائی پرمار گجرات کی امریٹھ سیٹ سے جیت گئے۔ بی جے پی امیدوار داوچیر آئی امچن نے ناگالینڈ کی کوریڈانگ سیٹ سے کامیابی حاصل کی، بی جے پی امیدوار جہر چکرورتی نے تریپورہ کی دھرم نگر سیٹ سے کامیابی حاصل کی۔ کرناٹک کی باگل کوٹ سیٹ سے کانگریس امیدوار امیش ہلپا جیت گئے، جبکہ کانگریس امیدوار سمرتھ شمنور ملیکارجن نے داونگیرے ساو¿تھ سیٹ سے جیت درج کی ہے ۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد