
نئی دہلی، 04 مئی (ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئررہنما اور وزیر اعظم نریندر مودی نے پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی شاندار کامیابی کے بعد پیر کو کہا کہ جمہوریت میں جیت اور ہار فطری ہے، لیکن جیت کے بعد بدلے(انتقام) کا جذبہ نہیں بلکہ بدلاو(تبدیلی) اور ترقی کی سمت میں آگے بڑھنا چاہیے۔ اسے ہندوستان کی جمہوری اقدار کی جیت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان انتخابی نتائج نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ ہندوستان کو ”جمہوریت کی ماں“ کیوں کہا جاتا ہے۔
بی جے پی ہیڈکوارٹر میں پارٹی کارکنوں کو مبارکباد دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا، ”آج کا دن ایک تاریخی اور بے مثال دن ہے“۔ انہوں نے مزید کہا کہ برسوں کی محنت جب کامیابی میں بدل جاتی ہے، توجو اطمینان اور خوشی ملتی ہے، وہی آجملک بھر میں بی جے پی کارکنوں کے چہروں پر نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے جیت کا سہرا کارکنوں کو دیتے ہوئے کہا کہ ”آپ نے کمال کر دیا، کمل کھلا دیااورنئی تاریخ رقم کر دی۔“
انہوں نے خاص طور پر مغربی بنگال، آسام اور پڈوچیری میں ملی جیت پر خاص طور پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ صرف سیٹوں کی تعداد نہیں ہے بلکہ خوف، تشدد اور عدم استحکام کی سیاست کو جڑ سے اکھاڑنے کا مینڈیٹ ہے۔ انہوں نے کہا، ”بنگال کی مقدس سرزمین پر آج ایک نیا سورج طلوع ہوا ہے،“ جوایک نئے دور کے شروع ہونے کا اشارہ ہے جس کا نسلوں سے انتظار تھا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ انتخابات میں بھاری ووٹنگ ، خاص طور پر خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت ہندوستانی جمہوریت کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔ مغربی بنگال میں تقریباً 93 فیصد ووٹنگ کو انہوں نے تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آسام، تمل ناڈو، پڈوچیری اور کیرالہ میں بھی ووٹنگ کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان کی جمہوریت کی سب سے روشن تصویر ہے، جہاں سماج کا ہر طبقہ سرگرمی سے حصہ لے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دن اعتماد کا دن ہے - ہندوستان کی جمہوریت میں یقین، کارکردگی کی سیاست میں اعتماد، استحکام کے عزم میں یقین اور ایک بھارت ، شریشٹھبھارت کے جذبے میں اعتماد۔ انہوں نے پانچ ریاستوں کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ترقی اور اچھی حکمرانی کے لیے اپنی حمایت دی ہے۔
عالمی منظر نامے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ جب دنیا کے کئی حصے جنگ، عدم استحکام اور معاشی تناؤ کا سامنا کر رہے تھے،تب ہندوستان کے رائے دہندگان نے استحکام اور ترقی کے لیے ووٹ دیا۔ انہوں نے اسے ہندوستان کے پختہ جمہوری آگاہی کی مثال قرار دیا۔
اپنے خطاب میں، انہوں نے ”ناگرک دیوو بھو“ کو حکومت کا رہنما اصول قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی عوام کی خدمت کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بی جے پی-این ڈی اے کی حکومتیں 20 سے زیادہ ریاستوں میں برسراقتدار ہیں، جو عوام کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی علامت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جہاں بھی بی جے پی ہے وہاں اچھی حکمرانی اور ترقی ہے۔
وزیر اعظم نے ضمنی انتخابات میں پارٹی کی کامیابی کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ مہاراشٹرا، گجرات، ناگالینڈ اور تریپورہ میں پارٹی کو عوام کا آشیرواد ملا ہے۔ انہوں نے این ڈی اے لیڈر اور مہاراشٹر کی نائب وزیر اعلیٰ سنیترا پوار کی جیت کا بھی حوالہ دیا اور اسے اتحاد کی مضبوطی کی علامت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ آج صرف جمہوریت ہی نہیں جیتی بلکہ آئین اور آئینی اداروں کی بھی جیت ہوئی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جمہوریت ہندوستان کے لیے صرف ایک نظام نہیں ہے، بلکہ اس کی ثقافت اور روایت کا ایک حصہ ہے، جو لوگوں کی رگوں میں بہتی ہے۔
مغربی بنگال کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ تشدد کے سلسلے کو ختم کریں۔ انہوں نے کہا کہ ”جیت کے بعدبدلہ (انتقام) کی بات نہیں ، بدلاؤ(تبدیلی ) کی بات ہونی چاہیے، بھے (ڈر)نہیں بھویشیہ (مستقبل )کی بات ہونی چاہیے۔“ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوران کس نے کس کو ووٹ دیا، اس ذہنیت سے اوپر اٹھنا ہوگا اور ریاست کی ترقی پر توجہ مرکوز کرنا ہوگا۔
خواتین کو بااختیار بنانے پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ”ناری شکتی“ وکست بھارت کا ایک اہم ستون ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس، ترنمول کانگریس اور دیگر جماعتوں نے خواتین ریزرویشن بل کو روکنے کی کوشش کی تھی لیکن خواتین نے انتخابات میں اس کا جواب دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کا سیاسی کردار مستقبل میں بھی فیصلہ کن ہو گا۔
وزیر اعظم نے سماج وادی پارٹی کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جنہوں نے پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن کی مخالفت کی ، انہیں آنے والے وقت میں خواتین کے غصے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خواتین مخالف کی سیاست کرنے والی جماعتیں اپنے گناہوں سے نہیں بچ سکتیں۔
کیرالہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بائیں بازو کے دس سال کے اقتدار کے بعد کانگریس کو فائدہ ہوا ہے لیکن انہیں یقین ہے کہ وہاں کی خواتین مستقبل میں صحیح فیصلے کریں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کی کسی بھی ریاست میں بائیں بازو کی حکومتیں نہیں رہ گئی ہیں، جو ایک بڑی نظریاتی تبدیلی کا اشارہ دیتی ہے۔
وزیر اعظم نے وکست بھارت کے وژن کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ”پوریودے ‘ کے تصور سے جڑا ہوا ہے، جس میں ملک کے مشرقی حصوں - آنگ، بنگ اور کلنگ کی ترقی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں نے بی جے پی-این ڈی اے کی حمایت کرتے ہوئے وکست بھارت کی طرف مضبوط قدم اٹھایا ہے۔
کاشی میں اپنی 2013 کی نامزدگی کو یاد کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا، ”ماں گنگا نے مجھے بلایا ہے“ اور آج مسلسل ان کے آشیرواد کو محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے گنگوتری سے گنگا ساگر تک بی جے پی کی سیاسی کامیابی کو وسیع عوامی حمایت کی علامت قرار دیا۔
وزیر اعظم نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ اس جیت کو ایک ذمہ داری کے طور پر لیں اور ملک کی ترقی کے لیے وقف رہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہجیت خدمت، لگن اور عوامی اعتماد کا نتیجہ ہے اور اسے مزید مضبوط کرنا ہر کسی کی ذمہ داری ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد