
مالدہ، 3 مئی (ہ س)۔ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج سے عین قبل موتھا باڑی واقعہ نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے عدالتی افسران کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے سلسلے میں ترنمول کانگریس کے کئی بااثر لیڈروں اور کارکنوں کو طلب کیا ہے۔ انہیں اتوار کو کالی چک پولیس اسٹیشن میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
طلب کیے گئے افراد میں شجاع پور ترنمول امیدوار سبینا یاسمین کے انتخابی ایجنٹ عبدالرحمٰن بھی شامل ہیں، جو ضلع پریشد میں محکمہ جنگلات اور اراضی کے کارگزار سربراہ بھی ہیں۔ کالیاچک 1 بلاک کے ترنمول صدر محمد سریعل کو بھی پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ ان رہنماوں کو سنیچر کی رات دیر گئے نوٹس بھیجے گئے۔
غور طلب ہے کہ گزشتہ ماہ موتھا باڑی میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران کلکتہ ہائی کورٹ کے ذریعہ مقرر کردہ عدالتی افسران کو گھیرے میں لے کر احتجاج کیا گیا تھا۔ یہ الزام لگایا گیا ہے کہ سات افسران کو دیر رات تک یرغمال بنایا گیا تھا اور ان سے بدسلوکی کی گئی تھی۔
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے جانچ این آئی اے کو سونپنے کا حکم دیا تھا۔
اس سے قبل کریمنل انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) نے اس معاملے میں 52 لوگوں کو گرفتار کیا تھا، جن میں اہم ملزم مفکر الاسلام بھی شامل ہے، جن میں سے اکثر این آئی اے کی حراست میں ہیں۔
ووٹوں کی گنتی سے چند گھنٹے قبل حکمراں پارٹی کے لیڈروں کو طلب کیے جانے نے ضلع مالدہ میں سیاسی ماحول کو گرما دیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس اقدام کا انتخابی نتائج پر کیا اثر پڑے گا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی