کانگریس نے گریٹ نکوبار پروجیکٹ پر ایک بار پھر سوال اٹھائے ۔
نئی دہلی، 3 مئی (ہ س)۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری (مواصلات) جے رام رمیش نے گریٹ نکوبار جزیرے کے ترقیاتی پروجیکٹ کے تعلق سے مرکزی حکومت سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس پروجیکٹ سے متعلق ماحولیاتی، سماجی اور شفافیت کے مسائل پر سوالات کا جواب دینے سے گر
نکوبار


نئی دہلی، 3 مئی (ہ س)۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری (مواصلات) جے رام رمیش نے گریٹ نکوبار جزیرے کے ترقیاتی پروجیکٹ کے تعلق سے مرکزی حکومت سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس پروجیکٹ سے متعلق ماحولیاتی، سماجی اور شفافیت کے مسائل پر سوالات کا جواب دینے سے گریز کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے 28 اپریل کو گریٹ نکوبار کے دورے کے بعد حکومت نے توجہ ہٹانے کے لیے ایک پریس بیان جاری کیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ ایک تفصیلی بیان میں، جے رام رمیش نے کہا کہ یکم مئی کے حکومتی پریس نوٹ میں مقامی کمیونٹیز، ماہرین ماحولیات، ماہر بشریات اور مختلف ماہرین کی جانب سے پہلے سے ہی اٹھائے گئے سنگین خدشات کو دور نہیں کیا گیا۔ انہوں نے خود ستمبر 2024 میں ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے وزیر کو خط لکھا تھا۔

رمیش نے کہا کہ یہ جزیرہ حیاتیاتی تنوع کے نقطہ نظر سے انتہائی حساس اور منفرد ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں یہاں تقریباً 50 نئی انواع کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں پرندے، رینگنے والے جانور اور سمندری حیات شامل ہیں۔ مجوزہ پروجیکٹ سائٹ گلاتھیا بے کوسٹل ریگولیشن۔ زون 1اے کے اندر آتی ہے، جہاں بندرگاہ کی تعمیر کی اجازت نہیں ہے۔ اس علاقے میں 20,000 سے زیادہ مرجان کی چٹانیں ہیں اور اسے شمالی بحر ہند میں بڑے چمڑے کے کچھووں کی افزائش کا ایک بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ماحولیاتی منظوری کے عمل میں شامل اداروں کے کردار پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا اور زولوجیکل سروے آف انڈیا جیسے اداروں کو پروجیکٹ اسٹڈیز اور نگرانی کے کام تفویض کیے گئے تھے، جب کہ انہی اداروں نے کلیئرنس کے عمل میں بھی اپنا کردار ادا کیا، جس سے مفادات کا ٹکراو¿ پیدا ہوا۔ کچھ آزاد اداروں کو جنہوں نے اس منصوبے پر تنقیدی موقف اختیار کیا تھا، کو اس عمل سے خارج کر دیا گیا تھا۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande