
واشنگٹن،29مئی (ہ س)۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران نے جنگ بندی میں توسیع کے معاہدے کی جانب اچھی پیش رفت کی ہے۔جے ڈی وینس کے مطابق ’صدر ڈونلڈ ٹرمپ ابھی اس کی منظوری دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کسی معاہدے تک پہنچنے سے پہلے امریکہ اور ایران کو اب بھی کئی اہم نکات طے کرنا ہوں گے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکی ذرائع کی جانب سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدہ طے پانے کی خبر کے چند گھنٹے بعد وینس نے صحافیوں کو بتایا کہ مذاکرات کار معاہدے میں استعمال کی جانے والی ’زبان پر بات کر رہے ہیں‘ جس میں ’افزودگی کا سوال‘ بھی شامل ہے۔ 'ہم نے اس میں کافی پیش رفت کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ایسی پوزیشن میں ہے جہاں وہ تہران کے ایٹمی پروگرام کو نمایاں حد تک پیچھے دھکیل سکتا ہے۔امریکہ طویل عرصے سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی روکے اور اپنے پاس پہلے سے موجود ذخیرے کو ختم کرے۔ کہا جاتا ہے کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم جوہری ہتھیار بنانے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
واشنگٹن ڈی سی میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران وینس کا لہجہ پرامید تھا، انھوں نے کہا کہ امریکہ کو یقین ہے ایرانی ’نیک نیتی‘ کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔رائٹرز کے مطابق امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ واشنگٹن، ایران کے معاملے پر ’ابھی اس مقام تک نہیں پہنچا‘ لیکن فریقین ایک دوسرے کے قریب ہیں۔اطلاعات کے مطابق یہ معاہدہ جنگ بندی میں 60 دن کی توسیع کرے گا اور ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل پر بات چیت کا آغاز کرے گا۔تاہم ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کیا کہ معاہدے کو نہ تو حتمی شکل دی گئی ہے اور نہ ہی اس کی تصدیق ہوئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan