
برسلز،29مئی (ہ س)۔یورپی یونین نے باضابطہ طور پر سات اسرائیلی آباد کاروں اور تنظیموں پر پابندیاں عائد کر دیں۔ یہ وہ افراد اور تنظیمیں ہیں جن کا تعلق فلسطینیوں کے خلاف کیے جانے والے تشدد اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع سے ہے۔ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے رواں برس 11 مئی کو ان پابندیوں کی منظوری دی تھی جنہیں ہنگری کے سابق وزیر اعظم وکٹر اوربان نے روک رکھا تھا۔ ان کی انتخابی شکست اور اقتدار سے علیحدگی نے ہنگری کے ویٹو کو ختم کرنے کا راستہ صاف کیا ہے۔ان پابندیوں میں سفر پر پابندی اور اثاثوں کا منجمد ہونا شامل ہے۔ یورپی یونین کے شہریوں اور اس کی کمپنیوں سے پابندیوں کی فہرست میں شامل افراد کو کوئی بھی فنڈز، مالی اثاثے یا دیگر اقتصادی وسائل فراہم کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ پابندیوں کے شکار افراد میں دانییلا وائس بھی شامل ہیں جو آباد کاروں کی تحریک کی ایک ممتاز شخصیت ہیں۔
اسی تناظر میں 27 ملکوں پر مشتمل یورپی کونسل نے فلسطینی تحریک حماس کے 10 نمائندوں پر بھی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔ مقبوضہ مغربی کنارا اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز سے ہی اسرائیلی افواج اور آباد کاروں کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر تشدد کا گواہ رہا ہے۔یورپی یونین پر سپین اور اٹلی کی جانب سے اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے بھی دباو¿ ڈالا گیا تھا جب انہوں نے ایک ویڈیو کلپ نشر کیا تھا جس میں غزہ کی طرف جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے کارکنوں کو گھٹنوں کے بل بیٹھنے اور ان کے ہاتھ بندھے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ واضح رہے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے رواں مئی کے دوران غزہ کی پٹی کی طرف جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو بحری افواج کی طرف سے روکے جانے کی تصدیق کی تھی اور جو کچھ ہوا اسے ایک معاندانہ منصوبے کو ناکام بنانا قرار دیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan