چینی کمپنی کے خلاف نیپال کے عوام کا غصہ پھوٹ پڑا، سڑک کی تعمیر میں تاخیر پر ایسٹ ویسٹ ہائی وے کو کیا بلاک
کاٹھمنڈو، 29 مئی (ہ س)۔ نیپال کی گولبازار میونسپلٹی میں مقامی لوگوں نے ایک چینی کمپنی کی طرف سے سڑک کی تعمیر میں زیادہ تاخیر کے خلاف احتجاج کے لیے ایسٹ ویسٹ ہائی وے کو بلاک کردیا۔ کنچن پور کملا سڑک کے توسیعی منصوبے میں چینی کنٹریکٹر کمپنی کی جانب
نیپال


کاٹھمنڈو، 29 مئی (ہ س)۔ نیپال کی گولبازار میونسپلٹی میں مقامی لوگوں نے ایک چینی کمپنی کی طرف سے سڑک کی تعمیر میں زیادہ تاخیر کے خلاف احتجاج کے لیے ایسٹ ویسٹ ہائی وے کو بلاک کردیا۔

کنچن پور کملا سڑک کے توسیعی منصوبے میں چینی کنٹریکٹر کمپنی کی جانب سے کام کی رفتار سست ہونے پر لوگوں نے احتجاج کیا اور چینی کنسٹرکشن کمپنی کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کیا۔

مقامی شہریوں، تاجروں اور سیاست دانوں نے جمعہ کی صبح تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک ہائی وے کو بلاک رکھا۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ چائنا ریلوے نمبر 2 انجینئرنگ گروپ کو ٹھیکہ دیئے ہوئے تقریباً سات سال گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک سڑک کی تعمیر مکمل نہیں ہوسکی ہے جس سے عوام کو روز بروز مشکلات کا سامنا ہے۔

مقامی رہائشی دنیش نائک نے کہا کہ ہلکی بارش بھی سڑک کو کیچڑ میں تبدیل کر دیتی ہے جس سے ٹریفک مکمل طور پر بند ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلباءاسکول جانے سے قاصر ہیں اور گندا پانی اور کیچڑ جلد کی بیماریوں سمیت مختلف بیماریوں میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے۔

مقامی رہنما پرمیشور شاہ کے مطابق احتجاج کے بعد مسئلے کے حل کے لیے چینی کمپنی کے نمائندوں اور مقامی عوامی نمائندوں کے ساتھ میٹنگ کرنے کا معاہدہ طے پایا، جس کے بعد شاہراہ کو کھول دیا گیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اجلاس سے کوئی تسلی بخش حل نہ نکلا تو چینی کمپنی کے خلاف احتجاج میں شدت لائی جائے گی۔

ایسٹ ویسٹ ہائی وے کے تحت لہان، گولبازار اور مرچیا جیسے بازار کے علاقوں میں سڑک کی نامکمل تعمیر کی وجہ سے لوگوں کو طویل عرصے سے مشکلات کا سامنا ہے۔

ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) کے قرض سے تعمیر ہونے والا 86.83 کلومیٹر طویل کنچن پور-کملا روڈ منصوبہ چھ سال بعد بھی نامکمل ہے۔ نیپال حکومت اور چینی تعمیراتی کمپنی کے درمیان مئی 2020 کے معاہدے کے مطابق، یہ منصوبہ نومبر 2023 تک مکمل ہونا تھا۔

تاہم چینی تعمیراتی کمپنی کے سست روی، مالی بحران، کورونا وبا، درختوں کی کٹائی میں تاخیر اور بروقت بجلی کے کھمبے نہ ہٹانے کے باعث منصوبہ تاخیر کا شکار ہوتا رہا۔

پروجیکٹ کی آخری تاریخ میں پہلے 14 ماہ، پھر 12 ماہ اور آخر میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی گئی، جو 30 جون کو ختم ہوئی۔ اس کے باوجود مجموعی فزیکل پیشرفت کا صرف 68 فیصد حاصل کیا جاسکا ہے اور 32 فیصد کام زیر التوا ہے۔ نتیجتاً چوتھی توسیع متوقع ہے۔

ایسٹرن بلاک روڈ پلاننگ آفس کے سربراہ نیرج شاکیہ کے مطابق 39.42 کلومیٹر سڑک میں سے صرف 24.58 کلومیٹر پر ہی کلوپترا کا کام مکمل ہوا ہے۔

وہیں، مغربی ڈویڑن کے انفارمیشن آفیسر انوپم کمار ساہ نے کہا کہ 47.41 کلومیٹر میں سے صرف 35.61 کلومیٹر سڑک پر کام مکمل ہوا ہے۔

مسلسل تعمیراتی تاخیر کی وجہ سے منصوبے کی لاگت بڑھ رہی ہے۔ ابتدائی تخمینہ کے مقابلے تقریباً 3 ارب نیپالی روپے پہلے ہی خرچ ہو چکے ہیں۔ نیپال کی حکومت 15.66 ارب روپے کی کل پروجیکٹ لاگت کا 28.78 فیصد حصہ دیتی ہے ،جبکہ اے ڈی بی قرض کا 71.22 فیصد فراہم کرتا ہے۔

اے ڈی بی نیپال ڈائریکٹوریٹ کے انفارمیشن آفیسر دھرو کمار شریسٹھا کے مطابق تکنیکی نگرانی، کنسلٹنٹ سروس ایکسٹینشن اور سائٹ مینجمنٹ پر اضافی اخراجات کی وجہ سے پروجیکٹ کی لاگت میں 18.98 فیصد اضافہ ہوا ہے یعنی اب تک 2 ارب 97 کروڑ 22 لاکھ روپے کااضافہ ہو چکاہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande