
نئی دہلی، 29مئی(ہ س)۔ امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات پر غیر یقینی صورتحال، غیر ملکی سرمایہ کاروں کی طرف سے فروخت اور منافع کی بازیابی کے دباو¿ نے آج شیئرمارکیٹ کے لیے بلیک فرائیڈے بنا دیا۔ گھریلو شیئر مارکیٹ نے آج کی تجارت کا اختتام آل راو¿نڈ سیل آف کے دباو¿ میں تیز گراوٹ کے ساتھ کیا۔ آج کے کاروبار کا آغاز ملے جلے انداز میں ہوا۔ بازار کھلنے کے بعد خریداروں کی حمایت سے سینسکس اور نفٹی دونوںکے چال میں تیزی بھی آئی، لیکن صبح 10 بجے سے بازار میں فروخت کا دباو¿ بڑھتا رہا۔سہ پہر 3 بجے کے قریب شروع ہونے والے مجموعی منافع کی وجہ سے دونوں کی چال میں تیزی سے گراوٹ آئی۔ سینسکس دن کی بلند ترین سطح سے 1,630 پوائنٹس گر گیا۔ اسی طرح نفٹی دن کی بلند ترین سطح سے 518 پوائنٹس تک گر گیا۔ دن بھر ٹریڈنگ کے بعد سینسکس 1.44 فیصد اور نفٹی 1.50 فیصد نیچے بند ہوا۔دن کی تجارت کے دوران زیادہ تر سیکٹرل انڈیکس سرخ رنگ میں ختم ہوئے۔ آج کی تجارت میں پبلک سیکٹر انٹرپرائزز، تیل و گیس اور دھات کے شعبوں کے شیئرز میں بھاری فروخت دیکھنے میں آئی۔ اسی طرح ہیلتھ کیئر، ایف ایم سی جی، کنزیومر ڈیوریبلز، کیپٹل گڈز، آٹوموبائل اور بینکنگ انڈیکس بھی سرخ رنگ میں بند ہوئے۔
دوسری طرف، نفٹی آئی ٹی انڈیکس آئی ٹی سیکٹر میں خریداری کی قیادت میں 0.6 فیصد زیادہ بند کرنے میں کامیاب رہا۔ وسیع تر بازاروں میں بھی آج فروخت کا سلسلہ جاری رہا، جس میں نفٹی مڈکیپ انڈیکس 1.3 فیصد نیچے بند ہوا۔ اسی طرح، سمال کیپ انڈیکس نے دن کی تجارت 0.85 فیصد کی کمی کے ساتھ ختم کی۔آج شیئرمارکیٹ میں تیزی سے گراوٹ کی وجہ سے شیئر مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کی دولت میں پانچ لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوگیا۔ آج کی تجارت کے بعد بی ایس ای میں درج کمپنیوں کا مارکیٹ کیپٹلائزیشن کم ہو کر 464.98 لاکھ کروڑ روپے (عارضی) رہ گیا۔ جبکہ آخری تجارتی دن یعنی بدھ کو ان کا مارکیٹ کیپٹلائزیشن 470.15 لاکھ کروڑ روپے تھا۔ اس کے نتیجے میں آج کی تجارت میں سرمایہ کاروں کو تقریبا 5.17 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan