
واشنگٹن، 27 مئی (ہ س)۔ سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے منگل کو محکمہ انصاف کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا، جس کا مقصدان کی سوانح عمری کے لیے لئے گئے انٹرویو کے دوران کی گئی ریکارڈنگز اور ٹرانسکرپٹس کو ریلیز ہونے سے روکنا ہے۔ ہیریٹیج فاونڈیشن نے فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کے تحت ان مواد کو ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
اے بی سی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، فاونڈیشن کے وکیل، رابرٹ ہور نے یہ مطالبہ دائر کیا، جس میں دلیل دی گئی کہ بائیڈن نے 2017 میں اپنی سوانح عمری لکھوانے کے لیے معروف مصنف(گھوسٹ رائٹر) مارک زوونِٹزر کو مواد فراہم کیا۔ ریکارڈنگز اور ٹرانسکرپٹس بائیڈن کے نائب صدر کے زمانے کے ہیں۔
محکمہ انصاف کویہ دستاویزات ایک خصوصی کونسل کی تفتیش کے بعد حاصل ہوئیں، یہ تفتیش فروری 2024 میں مکمل ہوئی۔ تحقیقات سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ بائیڈن نے جان بوجھ کر خفیہ دستاویزات کو اپنے پاس روک کررکھا اور ان کا خلاصہ کیا۔ تفتیش میں ان کے خلاف کسی مجرمانہ الزامات کی سفارش نہیں کی گئی تھی۔
بائیڈن نے مطالبہ کیا ہے کہ دستاویزات کو ہیریٹیج فاونڈیشن یا کانگریس کے ریپبلکن ممبران کے ساتھ شیئر نہ کیا جائے۔ انہوں نے مقدمے میں رازداری کے اپنے حق کا حوالہ دیا اور محکمہ انصاف پر ریکارڈ کے اجراء کیلئے راہ ہموار کرنے کا الزام لگایا۔
واشنگٹن ڈی سی میں امریکی ضلعی عدالت میں دائر کیا گیا بائیڈن کے مقدمہ میں کہا گیاہے کہ محکمہ انصاف نے اشارہ دیا ہے کہ وہ 15 جون کو آڈیو ریکارڈنگ اور ٹرانسکرپٹس ہیریٹیج فاونڈیشن اور ہاوس جوڈیشری کمیٹی کے حوالے کر دے گا۔ انہوں نے عدالت سے کہا ہے کہ وہ محکمہ انصاف کو ایسا کرنے سے روکے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی