
ٹیم ٹیک فارم ورک کی اسٹاک مارکیٹ میں پریمیم انٹری، آئی پی او سرمایہ کار منافع میں
نئی دہلی، 26 مئی (ہ س)۔ کنسٹرکشن انڈسٹری کے لیے ماڈیولر ٹی- فارم ورک اورکسٹمائزڈ فارم ورک سسٹم بنانے والی کمپنی ٹیم ٹیک فارم ورک سولیوشنز کے حصص نے آج اسٹاک مارکیٹ میں پریمیم انٹری کرکے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو خوش کردیا۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 63 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج، این ایس ای کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پراس کی لسٹنگ 19.05 فیصد پریمیم کے ساتھ 75 روپے کی سطح پر درج ہوئی۔
لسٹنگ کے بعد، فروخت کے دباو کی وجہ سے اسٹاک 71.25 کے نچلے سرکٹ کی سطح پر گر گیا۔ تاہم، خریداروں نے تیزی سے خرید اری میں اضافہ کیا اور لوئر سرکٹ کو توڑ دیا۔ 12:30 بجے تک، کمپنی کے حصص 75 روپے کی سطح پر ٹریڈ کر رہے تھے۔ اس طرح، تجارتی سیشن کے بعد، آئی پی او سرمایہ کار 12 روپے فی حصص، یا 19.05 فیصد کے منافع پر ٹریڈ کر رہے تھے۔
ٹیم ٹیک فارم ورک سولیوشنزکی 50.15 کروڑ کی ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) 19 اور 21 مئی کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلی تھی۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کا اوسط جواب ملا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 7.01 گنا سبسکرپشن ہوا۔ اہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) کے لیے مختص حصہ کو 4.28 گنا سبسکرائب کیا گیا، جبکہ غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مختص حصہ 12.79 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ اسی طرح خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مختص حصہ کو 6.10 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ آئی پی او نے 5روپیہ فیس ویلیو والے 79.60 لاکھ نئے حصص جاری کیے ہیں۔ کمپنی ایک نیا مینوفیکچرنگ یونٹ قائم کرنے، پلانٹ اور مشینری خریدنے، اپنے موجودہ قرض کو کم کرنے، ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات کو پورا کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے رقم کا استعمال کرے گی۔
کمپنی کی مالی حالت کی بات کریں تو، اس کی مالی صحت مسلسل مضبوط ہوئی ہے، جیسا کہ کیپٹل مارکیٹس ریگولیٹر ایس ای بی آئی کے پاس دائر کردہ ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) میں دعویٰ کیا گیا ہے۔ 24۔2023 کے مالی سال میں، کمپنی نے 7.69 کروڑ کا خالص منافع رپورٹ کیا، جو اگلے مالی سال-25۔2024 میں بڑھ کر 7.84 کروڑ ہو گیا۔ اس کے بعد، 26۔2025 مالی سال میں، کمپنی کا خالص منافع 11.59 کروڑ تک بڑھ گیا۔
اس دوران کمپنی کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال-24۔2023میں، اس نے 30.31 کروڑ کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 25۔2024 میں بڑھ کر 32.98 کروڑ ہو گئی۔ اس کے بعد، گزشتہ مالی سال 26۔2025 میں، کمپنی کی آمدنی کا اعداد و شمار 54.23 کروڑ تک پہنچ گیا۔ اس دوران کمپنی کے قرضوں میں اضافہ بھی ہوتارہا۔ مالی سال24۔2023 کے اختتام پر، کمپنی پر 3.64 کروڑ قرض کا بوجھ تھا، جو مالی سال-25۔2024 میں بڑھ کر 11.10 کروڑ ہو گیا۔ اس کے بعد، مالی سال26۔2025 میں، کمپنی کے قرضوں کا بوجھ 16.68 کروڑ تک پہنچ گیا۔
اس دوران کمپنی کے رزرو اور سرپلس میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال24۔2023 میں وہ 11.23 کروڑ تھے، مالی سال 25۔2024 میں بڑھ کر 19.07 کروڑ ہو گئے۔ اسی طرح، مالی سال 26۔2025 میں، کمپنی کے ذخائر اور سرپلس22.21 ملین تک بڑھ گئے۔ اس مدت کے دوران کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بفور انٹریسٹ ، ٹیکسز، ڈیپریشئیشنس اینڈ ایمارٹائزیشن) میں بھی اضافہ ہوا۔ اس کا ای بی آئی ٹی ڈی اے24۔2023 میں 9.11 کروڑ تھا، جو 25۔2024 میں بڑھ کر 9.24 کروڑ ہو گیا۔ اسی طرح، گزشتہ مالی سال26 ۔2025 میں، کمپنی کاای بی آئی ٹی ڈی اے17.50 کروڑ تک پہنچ گیا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی