کھادی اور گاوں کی صنعت کی مصنوعات کی فروخت میں اضافہ،2025اور2026میں1.87 کروڑ کی ریکارڈ فروخت
نئی دہلی، 26 مئی (ہ س)۔ ملک میں دیسی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ اور دیہی معیشت کی مضبوطی کے درمیان کھادی اور گاو ں کی صنعت کمیشن (کے وی آئی سی) نے نئی تاریخ رقم کی ہے۔ کھادی اور گاو ں کی صنعت کی مصنوعات کی فروخت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے، مالی سال
کھادی


نئی دہلی، 26 مئی (ہ س)۔ ملک میں دیسی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ اور دیہی معیشت کی مضبوطی کے درمیان کھادی اور گاو ں کی صنعت کمیشن (کے وی آئی سی) نے نئی تاریخ رقم کی ہے۔ کھادی اور گاو ں کی صنعت کی مصنوعات کی فروخت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے، مالی سال 2025سے2026 میں 1.87 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔

کھادی اور گاوں کی صنعت کمیشن (کے وی آئی سی) کے مطابق، کھادی اور گاوں کی صنعتوں کی مصنوعات کی فروخت 2025سے 2026 کے مالی سال میں 1,87,105 کروڑ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ کمیشن کے مطابق، 2024سے 25 20کے مالی سال میں فروخت 1,70,551.37 کروڑ تھی، جبکہ مالی سال 2013سے14 20میں یہ 31,154 کروڑ تھی۔ مزید برآں، کھادی کی پیداوار نے بھی نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ کھادی کی پیداوار، جو کہ 2013سے14 20کے مالی سال میں 811.08 کروڑ تھی، اب 3973.98 کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ یہ 390 فیصد اضافہ ہندوستان کے کاریگروں کی محنت، مہارت اور مقامی طاقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کے وی آئی سی نے کہا کہ گاو ں کی معیشت ہندوستان کی ترقی کے لیے سب سے مضبوط قوت بن رہی ہے۔

کے وی آئی سی کے چیئرمین منوج کمار نے کہا کہ کھادی اور گاوں کی صنعتوں کی مصنوعات کی فروخت مالی سال 2026سے27 20میں 2.51 لاکھ کروڑ سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، کھادی اور گاوں کی صنعت کی مصنوعات کی پیداوار مالی سال 2013سے2014میں 26,109 کروڑ روپے سے تقریباً پانچ گنا بڑھ کر مالی سال 2025سے26 20میں 1,25,296 کروڑ ہو گئی۔ یہ 380فیصد اضافہ دیہی صنعتوں کی بڑھتی ہوئی طاقت اور خود انحصار ہندوستان کی نئی تصویر کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ روزگار کے محاذ پر، کھادی اور گاوں کی صنعت کی سرگرمیوں میں کل روزگار مالی سال 2013سے14 20میں 1.30 کروڑ سے بڑھ کر مالی سال 2025سے 2026میں 2.04 کروڑ ہو گیا۔ کمار نے کہا کہ یہ تبدیلی کاریگروں، خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی ایک نئی کہانی لکھ رہی ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande