
واشنگٹن،25مئی (ہ س)۔امریکہ نے حزب اللہ پر لبنان میں بدا منی پھیلانے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے اور اس کے سکریٹری جنرل نعیم قاسم کے اس بیان کی شدید مذمت کی ہے جس میں انہوں نے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے پس منظر میں حکومت کا تختہ الٹنے کی حمایت کی تھی۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا کہ امریکہ جمہوری طور پر منتخب لبنانی حکومت کو گرانے کی حزب اللہ کی لاپروا دعوت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے اسے ملک کو غیر مستحکم کرنے اور لبنانی عوام کے مستقبل کی قیمت پر اپنی طاقت برقرار رکھنے کی ایک سوچی سمجھی مہم قرار دیا، جس کا مقصد لبنان کو دوبارہ بد امنی اور تباہی کی طرف دھکیلنا ہے۔
نعیم قاسم نے اتوار کے روز کہا تھا کہ عوام کا یہ حق ہے کہ وہ سڑکوں پر نکلیں، حکومت کا تختہ الٹ دیں اور اس اسرائیلی امریکی منصوبے کے خلاف اپنی پوری طاقت کے ساتھ مزاحمت کریں۔ انہوں نے امریکی سرپرستی میں اسرائیل کے ساتھ حکومت کے براہِ راست مذاکرات کو مسترد کرنے کے موقف کو دہرایا اور اس بات پر اصرار کیا کہ وہ موجودہ وقت میں اپنے ہتھیار حوالے نہیں کریں گے۔مارکو روبیو نے مزید کہا کہ حزب اللہ نے جائز لبنانی حکومت کی جانب سے حملے روکنے اور جنگ بندی کا احترام کرنے کی بار بار کی جانے والی اپیلوں کو نظر انداز کیا ہے۔ اس کے بجائے اس نے اسرائیلی ٹھکانوں پر فائرنگ جاری رکھی اور جنوبی لبنان میں جنگجوو¿ں اور ہتھیاروں کو منتقل کیا۔ یہ ملک کو غیر مستحکم کرنے اور لبنانی عوام کے مستقبل کی قیمت پر اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کی ایک سوچی سمجھی مہم ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ لبنانی حکومت بحالی، تعمیرِ نو، بین الاقوامی امداد کے حصول اور اپنے شہریوں کے لیے ایک مستحکم مستقبل کی تعمیر کے لیے کام کر رہی ہے، جسے امریکہ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اس کے برعکس حزب اللہ اپنی سرگرمیوں سے لبنان کو دوبارہ بد امنی اور تباہی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ لبنانی حکومت کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے جو اپنی خود مختاری کی بحالی اور اپنے تمام عوام کے لیے ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے کوشاں ہے۔ حزب اللہ کی طرف سے تشدد اور حکومت کا تختہ الٹنے کی دھمکیوں کو کسی صورت کامیاب ہونے نہیں دیا جائے گا، کیونکہ وہ دور اب ختم ہونے کے قریب ہے جس میں ایک دہشت گرد گروہ پورے ملک کو یرغمال بنا کر رکھتا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan