
واشنگٹن،25مئی (ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ کسی بھی فوری معاہدے کے امکانات کو کم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی معاہدے میں جلد بازی کے حق میں نہیں ہیں۔
فاکس نیوز کے مطابق امریکی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بتایا کہ پیر کے روز کسی معاہدے پر دستخط نہیں ہوں گے، تاہم صدر ٹرمپ نے ایران کو 5 سے 7 دن کی مہلت دی ہے تاکہ وہ ایک قابلِ قبول معاہدے کی تیاری مکمل کرے، جس کی بنیاد یہ ہوگی کہ ایران کے پاس کوئی جوہری ذخیرہ نہ ہو اور منجمد اثاثے بھی موجود نہ رہیں۔اہلکار کے مطابق ایران نے اصولی طور پر اس فریم ورک پر اتفاق کر لیا ہے اور اس کا تقریباً 95 فیصد حصہ طے پا چکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جوہری ذخائر اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی معاہدہ ہو چکا ہے، جبکہ صرف حتمی مسودے کی تیاری باقی ہے۔اس سے قبل امریکی صدر نے اپنی پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ پر لکھا کہ ایران سے مذاکرات منظم اور تعمیری انداز میں جاری ہیں۔
ان کے مطابق انہوں نے مذاکراتی وفد کو ہدایت دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کی جائے کیونکہ وقت ان کے حق میں ہے۔ٹرمپ نے ایران پر بحری دباو¿ (سی گارڈ/بحری ناکہ بندی) کو اس وقت تک برقرار رکھنے کا بھی عندیہ دیا، جب تک کوئی معاہدہ طے پا کر اس کی منظوری اور دستخط نہیں ہو جاتے۔دوسری جانب امریکی صدر نے ایران سے متوقع معاہدے پر تنقید کرنے والوں کو سخت جواب دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ممکنہ معاہدہ سابق صدر باراک اوباما کے معاہدے جیسا نہیں ہوگا، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس نے تہران کو بھاری رقوم دی تھیں اور اسے جوہری صلاحیت کے راستے پر ڈال دیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ معاہدہ ابھی زیرِ تکمیل ہے اور اس کا مکمل متن سامنے نہیں آیا، اس لیے ناقدین کو اس چیز پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے ،جس کے بارے میں انہیں مکمل علم نہیں۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کوئی کمزور یا ناقابلِ قبول معاہدہ نہیں کریں گے۔دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات متعدد حساس امور پر ہیں، جن میں ایران کے جوہری عزائم، پابندیاں ختم کرنے کے مطالبات، تیل کی منجمد اربوں ڈالر کی آمدنی کی واپسی اور لبنان میں اسرائیل سے جاری کشیدگی شامل ہیں۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس موقع پر کہا کہ ”یا تو ایران کے ساتھ ایک اچھا معاہدہ ہوگا یا پھر معاملہ کسی اور طریقے سے نمٹایا جائے گا“۔
تاہم انہوں نے محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ چند گھنٹوں میں معاہدے کا امکان اب بھی موجود ہے اور پیر کے روز بھی کسی سمجھوتے کی گنجائش برقرار ہے۔روبیو نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل رہنا چاہیے۔ٹرمپ نے بارہا یہ دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ایران کے ساتھ اس جنگ کے خاتمے کے قریب ہیں جو 28 فروری کو شروع ہوئی تھی، جبکہ اپریل سے ایک کمزور جنگ بندی نافذ ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ مضبوط جنگ بندی میں تبدیل ہوتا ہے، تو اس سے عالمی منڈیوں پر دباو¿ کچھ کم ہوگا، تاہم توانائی کے عالمی بحران، ایندھن، کھاد اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ فوری طور پر ختم نہیں ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan