
نئی دہلی، 23 مئی (ہ س)۔ مغربی دہلی کے راجوری گار ڈن تھانہ پولیس نے او ایل ایکس کے ذریعہ مہنگے آئی فون فروخت کرنے والے لوگوں کو نشانہ بنانے والے ایک بین ریاستی فراڈ گینگ کا پردہ فاش کیا ہے ۔ پولیس نے گروہ کے دو سرگرم ارکان کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے 13 مہنگے آئی فون برآمد کئے ہیں۔
دونوں ملزمین مبینہ طور پر او ایل ایکس اور دیگر آن لائن پلیٹ فارم پر مہنگے موبائل فون فروخت کرنے والے لوگوں سے رابطہ کرکے انہیں دھوکہ دیتے تھے اور فون لے کر فرار ہو جاتے تھے ۔ گرفتار ملزمین کی شناخت محمد سید مہران شاہ اور معاذ خان ساکن رام پور (یوپی) کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق معاذ خان اس سے قبل بھی چوری، لوٹ اور دھوکہ دہی کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔
ایک سینئر پولیس افسر نے ہفتہ کو بتایا کہ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ابھیشیک ڈاگر نامی نوجوان نے راجوری گارڈن تھانے میں شکایت درج کروائی۔ شکایت میں بتایا گیا ہے کہ اس نے اپنا آئی فون او ایل ایکس پر فروخت کے لیے اپلوڈ کیا تھا۔ اس کے کچھ دیر بعد دو لوگوں نے اس سے رابطہ کیا اور فون خریدنے کے بہانے اسے راجوری گارڈن علاقے میں بلایا۔ الزام ہے کہ پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت دونوں ملزمین نے ابھیشیک کو اعتماد میں لیا اور موقع ملتے ہی اس کا فون لے کر فرار ہوگئے۔ شکایت کی بنیاد پر، راجوری گارڈن تھانہ میں ای ایف آئی آر نمبر 80039211/2026 درج کی گئی اور تحقیقات شروع کی گئی۔
تفتیش کے دوران، پولیس نے ہوٹل اور آس پاس کے علاقوں سے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی۔ تکنیکی نگرانی اور انٹیلی جنس کے نظام کو بھی فعال کر دیا گیا۔ تحقیقات کے لیے ایس آئی روی نروال، ہیڈ کانسٹیبل پریتم، ہیڈ کانسٹیبل پنکج، ہیڈ کانسٹیبل رام منوہر، کانسٹیبل سمت، کانسٹیبل پرمود اور کانسٹیبل ہری موہن پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ پولیس ٹیم کو تکنیکی معلومات اور انٹیلی جنس موصول ہوئی کہ ملزمین دہلی-ممبئی ایکسپریس وے کے قریب سوہنا علاقے میں ہیں۔ اس کے بعد پولیس نے چھاپہ مار کر دونوں کو گرفتار کر لیا۔
اس طرح واردات کو انجام دیتے تھے
پولیس کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ دونوں ملزمین نے خاص طور پر او ایل ایکس پر فروخت کے لیے درج مہنگے اور نئے آئی فون ماڈلز کو نشانہ بناتے تھے ۔ وہ موبائل بیچنے والوں سے رابطہ کرتے اور انہیں ہوٹل یا کسی مخصوص جگہ پر ملنے کے لئے بلاتے ۔ ملاقات کے دوران ملزمین موبائل کا اصل بل، باکس اور فون ری سیٹ کرانے جیسی باتوں سے ان کا اعتماد حاصل کرتے تھے ۔ اس کے بعد ایک ملزم موبائل لے کر فرار ہو جاتا، جبکہ دوسرا متاثرہ کو آن لائن ادائیگی کا بہانہ بنا کر بات چیت میں مصروف رکھتا۔ اس طرح دونوں نے کئی لوگوں کو دھوکہ دیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گینگ سے وابستہ دیگر افراد کے کردار کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد