
ایس آر ایچ کے خلاف مقابلہ سے پہلے کے کے آر کے بولنگ کوچ ٹم ساوتھی نے کہا۔ اگر پاور پلے میں کوئی وکٹ نہیں ملی، تو یہ مقبلہ مشکل ہو جائے گا
حیدرآباد، 02 مئی (ہ س)۔ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کے اتوار کو سن رائزرس حیدرآباد (ایس آر ایچ) اور کولکاتا نائٹ رائڈرس (کے کے آر) کے درمیان ہونے والے میچ سے قبل، کے کے آر کے بولنگ کوچ ٹم ساوتھی نے میچ سے پہلے کی پریس کانفرنس میں ٹیم کی تیاریوں اور حکمت عملی کے بارے میں کھل کر بات کی۔ ساوتھی نے کہا کہ ٹورنامنٹ کے درمیان وقفہ ٹیم کے لیے بہت فائدہ مند رہا۔ انہوں نے کہا، کچھ وقت گزارنا اچھا تھا، اس نے کھلاڑیوں کو تروتازہ کیا، وقفے سے پہلے، ہم نے لگاتار دو میچ جیتے، جس سے ٹیم کا مومینٹم برقرار رہا۔ امید ہے کہ ہم اس رفتار کو آگے بھی جاری رکھ سکیں گے۔
میچ سے قبل سری لنکائی تیز گیند باز متھیشا پاتھیرانا کے فٹنس فیصلے کے حوالے سے ساوتھی نے تصدیق کی کہ وہ ٹیم کے ساتھ ہیں اور پریکٹس میں اچھی گیندبازی کر رہے ہیں۔ تاہم پلیئنگ الیون میں ان کے انتخاب کا حتمی فیصلہ پچ اور حالات کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ ایس آر ایچ کی مضبوط بیٹنگ لائن اپ سے ہوشیار، ساوتھی نے اعتراف کیا کہ ایس آر ایچ کی بیٹنگ خاص طور پر ٹاپ اور مڈل آرڈر میں ہینرک کلاسن جیسے کھلاڑی کے ساتھ اس سیزن میں بہت خطرناک رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے گیندبازوں کے لیے ایک بڑا اور دلچسپ چیلنج ہے، ہم نے گزشتہ میچ میں ان کے خلاف اچھی گیندبازی کی اور اس بار بھی ہم ایسی ہی حکمت عملی اپنائیں گے۔
پاور پلے میں وکٹیں لینا ہوں گی۔ ساوتھی نے زور دے کر کہا کہ پاور پلے میں ابتدائی وکٹیں لینا اس میچ میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، جو ٹیمیں جلد وکٹیں لیتی ہیں وہ میچ پر کنٹرول حاصل کر لیتی ہیں۔ ہمیں اچھی شروعات کرنے اور تیزی سے وکٹیں لینے کی ضرورت ہے۔
آئی پی ایل کے موجودہ فارمیٹ کے بارے میں ساوتھی نے کہا کہ 'امپیکٹ پلیئر' کا اصول اور چھوٹے گراونڈز بلے بازوں کو زیادہ فائدہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ٹیم اب بے خوف ہو کر کھیلتی ہیں اور ہر گیند پر رنز بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔ لیکن باولرز کے پاس اب بھی کامیاب ہونے کے طریقے موجود ہیں۔ سنیل نارائن کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گیند باز تجربہ اور ورائٹی کے ساتھ اب بھی موثر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔‘‘
باونڈری سائز پر جاری بحث کے بارے میں ساوتھی نے کہا کہ ہر گراونڈ کی اپنی الگ شناخت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا، بنگلورو، ایڈن گارڈنز اور وانکھیڑے جیسے گراونڈ چھوٹے لگ سکتے ہیں، لیکن یہی کرکٹ کی خوبصورتی ہے۔ گیند بازوں کو حالات کے مطابق ڈھالنا پڑتا ہے۔ غور طلب ہے کہ یہ میچ دوپہر کو کھیلا جائے گا، جہاں اوس کا کوئی اثر نہیں ہوگا، جس کی وجہ سے گیند بازوں کو کچھ مدد ملنے کی امید ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی