

بھوپال/جبل پور، 2 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے جبل پور میں واقع برگی ڈیم میں جمعرات کی شام محکمہ سیاحت کا ایک کروز تیز آندھی کی زد میں آکر ڈوب گیا تھا۔ اس حادثے میں اب تک 9 افراد کی لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، جبکہ 29 مسافروں کو محفوظ باہر نکال لیا گیا ہے۔ لیکن ابھی بھی تین بچوں سمیت 4 افراد لاپتہ ہیں۔ اس حادثے میں کئی طرح کی لاپرواہی بھی سامنے آئی ہے، جس کے بعد انتظامیہ نے معاملے کی جانچ کے احکامات دیے ہیں اور کئی اہلکاروں پر کارروائی کی گئی ہے۔
جمعہ کو سامنے آنے والی ویڈیو میں لاپرواہی کی تصویر صاف نظر آرہی ہے۔ محکمہ موسمیات کے اورینج الرٹ کے باوجود مسافروں کو بغیر لائف جیکٹ کے ہی کروز پر سوار کیا گیا تھا۔ حادثے سے بچنے والے روشن آنند نے بتایا کہ کسی بھی مسافر کو پہلے سے لائف جیکٹ نہیں دی گئی تھی۔ جب کروز ڈگمگانے لگا، تو لوگ گھبرا کر ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ تقریباً آدھے گھنٹے تک افراتفری رہی۔ بعد میں مسافروں نے خود کیبن میں رکھی سیل پیک لائف جیکٹ نکالیں اور پہننے کی کوشش کی۔
حادثے کی دو ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں۔ پہلی ویڈیو میں سیاح میوزک اور مستی میں ڈوبے نظر آتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر نے لائف جیکٹ نہیں پہنی ہے۔ دوسری ویڈیو میں موسم کی خطرناک شکل دکھائی دیتی ہے، تیز ہوا، آندھی اور اونچی لہریں کروز کے اندر تک گھس رہی تھیں۔ حالات بگڑتے نظر آنے کے باوجود کروز کو کنارے لانے کی کوشش نہیں کی گئی۔
حادثے کے وقت امدادی کاموں میں بھی سنگین لاپرواہی سامنے آئی۔ شام 6 بجے کروز آندھی کی وجہ سے پلٹ گیا۔ 6.15 بجے اطلاع ملنے کے بعد 6.40 بجے ٹیم روانہ ہوئی، لیکن گاڑی اسٹارٹ نہیں ہو سکی۔ اس کے بعد وسائل کو دوسری گاڑی میں شفٹ کیا گیا۔ دوسرا دستہ شام 7 بجے روانہ ہوا، جس سے بچاو کے کام میں دو گھنٹے سے زیادہ کی تاخیر ہوگئی۔
جبل پور میں نرمدا ندی پر بنے برگی ڈیم میں یہ کروز سیاحوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس پر تقریباً 47 افراد سوار تھے، جبکہ ٹکٹ صرف 29 مسافروں کے ہی جاری کیے گئے تھے۔ حادثہ کنارے سے تقریباً 300 میٹر دور ہوا۔ اس وقت ہوا کی رفتار تقریباً 74 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ برگی سٹی سی ایس پی انجل مشرا کے مطابق ایس ڈی آر ایف کی ٹیم نے کئی لوگوں کو بچایا، لیکن تیز ہوا، اندھیرے اور خراب موسم کی وجہ سے امدادی کاموں میں دشواریاں پیش آئیں۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے اس واقعے کے بعد بڑا انتظامی فیصلہ لیتے ہوئے ریاست میں تمام کروز، موٹر بوٹ اور واٹر اسپورٹس کی سرگرمیوں پر فوری روک لگا دی ہے۔ ساتھ ہی تمام آبی ذرائع نقل و حمل کا سیفٹی آڈٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ حفاظتی معیارات کے مکمل جائزے کے بعد ہی دوبارہ آپریشن کی اجازت دی جائے گی۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ حفاظت میں کسی بھی قسم کی لاپرواہی اب برداشت نہیں کی جائے گی۔
محکمہ سیاحت کے افسر یوگیندر رچھاریا نے بتایا کہ برگی ڈیم میں فی الحال ایک ہی کروز چل رہا تھا، جسے سال 2006 میں بنایا گیا تھا۔ اس کی گنجائش 60 مسافروں کی تھی، جبکہ ایک اور کروز پہلے سے ہی خراب حالت میں پڑا ہے۔ اس واقعے کے بعد انتظامیہ نے پوری ریاست میں کروز کے آپریشن پر فوری اثر سے روک لگا دی ہے۔
حادثے کی تفصیلی جانچ کے لیے حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس میں ڈائریکٹر جنرل ہوم گارڈ اینڈ سول ڈیفنس، حکومت مدھیہ پردیش کے سکریٹری اور جبل پور ڈویژن کے کمشنر کو شامل کیا گیا ہے۔ کمیٹی یہ جانچ کرے گی کہ حادثہ کن حالات میں ہوا، حفاظتی قوانین پر عمل کیوں نہیں کیا گیا اور آپریشن میں کیا خامیاں رہیں۔ رپورٹ کی بنیاد پر ذمہ داری طے کر کے سخت کارروائی کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے حادثے میں برتی گئی لاپرواہی کے لیے ذمہ دار افراد پر کارروائی کرتے ہوئے کروز پائلٹ مہیش پٹیل، ہیلپر چھوٹے لال گونڈ اور ٹکٹ کاونٹر انچارج برجیندر کی خدمات ختم کر دی ہیں۔ اس کے علاوہ ہوٹل میکل ریزورٹ اور بوٹ کلب برگی کے مینیجر سنیل مراوی کو معطل کر دیا گیا ہے۔ ریجنل مینیجر سنجے ملہوترا کو ہیڈ کوارٹر اٹیچ کر کے محکمانہ جانچ شروع کر دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے دہرایا کہ قصورواروں کو کسی بھی صورت میں بخشا نہیں جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن