انویسٹ انڈیا کے اعداد و شمار میں مدھیہ پردیش روزگار کی فراہمی میں ملک میں سرِفہرست
انویسٹ انڈیا کے اعداد و شمار میں مدھیہ پردیش روزگار کی فراہمی میں ملک میں سرِفہرست ۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کی کوششوں کا ملا خوش آئند نتیجہ بھوپال، 02 مئی (ہ س)۔ وزارتِ تجارت و صنعت کے تحت محکمہ برائے فروغِ صنعت و اندرونی تجارت (ڈی پی آئی آئی ٹ
مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو ۔ فائل فوٹو


انویسٹ انڈیا کے اعداد و شمار میں مدھیہ پردیش روزگار کی فراہمی میں ملک میں سرِفہرست

۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کی کوششوں کا ملا خوش آئند نتیجہ

بھوپال، 02 مئی (ہ س)۔ وزارتِ تجارت و صنعت کے تحت محکمہ برائے فروغِ صنعت و اندرونی تجارت (ڈی پی آئی آئی ٹی) کی قومی سرمایہ کاری کے فروغ اور سہولت کاری کی ایجنسی ’انویسٹ انڈیا‘ کے جاری کردہ تازہ سرمایہ کاری کے اعداد و شمار میں مدھیہ پردیش روزگار کی فراہمی (روزگار کے مواقع پیدا کرنے) کے معاملے میں ملک میں صفِ اول کی ریاست کے طور پر ابھرا ہے۔ یہ معلومات حکومتِ ہند کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار میں سامنے آئی ہیں، جو ملک میں سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے دائرے اور ریاستوں کے کردار کو اجاگر کرتی ہیں۔

پی آر او ببیتا مشرا نے ہفتہ کو بتایا کہ قومی رپورٹ میں واضح طور پر اعلان کیا گیا ہے کہ روزگار کی فراہمی میں مدھیہ پردیش پورے ملک میں آندھرا پردیش، راجستھان، تلنگانہ اور مہاراشٹر کو پیچھے چھوڑ کر سرِفہرست رہا ہے۔ اس کامیابی کو ریاست میں فروغ پاتے ہوئے سرمایہ کاری کے سازگار ماحول، بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور صنعت دوست پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی قیادت میں سال 2025 کو ایم پی میں ’روزگار اور صنعت کا سال‘ قرار دیا گیا ہے۔ مدھیہ پردیش میں سرمایہ کاری کے فروغ کو ترجیح دی گئی ہے۔ ملک اور بیرونِ ملک منعقد ہونے والی انویسٹر میٹ، روڈ شوز اور مکالماتی پروگراموں کے ذریعے سرمایہ کاروں سے براہِ راست رابطہ قائم کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ریجنل انڈسٹری کانفرنس کے سلسلے کے ذریعے ریاست کے مختلف خطوں میں صنعتی سرگرمیوں کی توسیع کو یقینی بنایا گیا ہے۔ انویسٹ انڈیا کے یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کی مجموعی کوششوں سے مدھیہ پردیش نہ صرف سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے قابل ہے، بلکہ اسے موثر طریقے سے روزگار کی فراہمی میں بھی تبدیل کر رہا ہے۔ ریاست اب ملک کے ابھرتے ہوئے صنعتی اور روزگار کے مرکز کے طور پر اپنی شناخت مضبوط کر رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کی خصوصی توجہ سرمایہ کاری کو روزگار میں تبدیل کرنے پر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں ہنر مندی کے فروغ (اسکل ڈیولپمنٹ) پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے صنعتوں کی ضرورت کے مطابق آئی ٹی آئی اور پولی ٹیکنیک اداروں میں تربیت کو مستحکم کیا جا رہا ہے۔ طلبہ کے پلیسمنٹ پر خصوصی زور دیا جا رہا ہے، جس سے نوجوانوں کو براہِ راست روزگار سے جوڑنے میں مدد مل رہی ہے۔ روزگار میلوں اور ’’یوا سنگم‘‘ جیسے پروگراموں کے ذریعے بھی بڑی تعداد میں نوجوانوں کو مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔

پی آر او نے بتایا کہ مالی سال 26-2025 کے دوران انویسٹ انڈیا نے 1.6 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ مالیت کے 60 سرمایہ کاری کے منصوبوں کو زمین پر اتارنے میں تعاون کیا ہے۔ یہ منصوبے 14 ریاستوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور ان کے ذریعے 31 ہزار سے زائد ممکنہ روزگار پیدا ہونے کا تخمینہ ہے۔ اس وسیع قومی تناظر میں مدھیہ پردیش نے روزگار کی فراہمی کے شعبے میں سرِفہرست مقام حاصل کرتے ہوئے اپنی مضبوط موجودگی درج کرائی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande