
مشرقی مدنی پور، 2 مئی (ہ س)۔ بی جے پی لیڈر دلیپ گھوش نے مغربی بنگال میں ووٹوں کی گنتی سے قبل ممکنہ بدامنی کے بارے میں متنازعہ تبصرہ کیا ہے۔ مشرقی مدنی پور ضلع میں بی جے پی کی انتخابی ورکشاپ کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، دو مرحلوں میں ووٹنگ مکمل ہو چکی ہے، کھیل ختم ہو چکا ہے، اور نتائج آنا باقی ہیں۔
گھوش نے کہا، ممتا بنرجی ایک تاناشاہ وزیر ہیں۔ طاقت ان کے لیے سب سے اہم ہے، اور جب اقتدار ختم ہو نے لگتا ہے، وہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہوتی ہیں۔ اب وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح ہیں۔ جب لگتا ہے کہ اقتدار ختم ہوتا جا رہا ہے، وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ووٹوں کی گنتی کے دن کسی ناخوشگوار واقعے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
اس میٹنگ میں غیر منقسم مدنی پور خطہ کی 35 اسمبلی سیٹوں کے امیدواروں، ایجنٹوں اور بی جے پی کے کئی لیڈروں نے شرکت کی۔ بی جے پی کے ریاستی صدر شمک بھٹاچاریہ، ایم پی دیبیندو ادھیکاری، بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری (تنظیم) سنیل بنسل، اور بی جے پی لیڈر امت مالویہ سمیت کئی سینئر لیڈروں نے میٹنگ میں شرکت کی۔
میٹنگ کے بعد، دلیپ گھوش نے دعویٰ کیا کہ ترنمول کانگریس کواحساس ہوگیا ہےکہ وہ ووٹنگ کے پہلے راونڈ کے بعد پیچھے چل رہی ہے، اس لیے اس نے دوسرے راونڈ میں گڑبڑ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ گنتی کے دن بدامنی بھی پھیل سکتی ہے کیونکہ کچھ لوگوں کو شکست قبول کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
دریں اثنا، بی جے پی کے ریاستی صدر شمک بھٹاچاریہ نے کہا کہ ووٹوں کی گنتی کے معاملے سے متعلق دائر مقدمات پر ریاستی حکومت کے اخراجات پر مستقبل میں سوال اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے پہلے ہی ترنمول کانگریس کو مسترد کر دیا ہے اور مقدمات سے صورتحال تبدیل نہیں ہو سکتی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی