
نئی دہلی، 2 مئی ( ہ س ) ۔ مرکزی وزیر مملکت برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنس (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے مئی کے مہینے میں ممکنہ گرمی اور لو کے بارے میں عوام سے گھبرانے کے بجائے محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو میں ہے۔ موسم کی پیشگوئی کو صحیح طریقے سے سمجھ کر اور روزمرہ کی سادہ احتیاطوں سے اس کے اثر کو کم کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر سنگھ نے ہفتہ کو اپنے دفتر میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران بتایا کہ بھارتی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کی پیشگوئی کے مطابق ملک کے کچھ حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت اور گرمی کی صورتحال بن سکتی ہے، لیکن یہ پورے ملک میں یکساں طور پر اثر انداز نہیں ہوگی۔ بروقت تیاری اور آئی ایم ڈی کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری کی جانے والی ہدایات پر عمل کر کے اسے مؤثر طریقے سے قابو کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر سنگھ نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ زیادہ پانی پئیں، دوپہر کی دھوپ سے بچیں اور بچوں، بزرگوں اور باہر کام کرنے والوں کا خاص خیال رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ موسمیات کی جنب سے جاری ہونے والی موسم سے متعلق معلومات پر نظر رکھنا ضروری ہے۔
زرعی شعبے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ شمالی اور شمال مغربی بھارت میں ربیع فصلوں کی کٹائی کے لیے حالات موافق ہیں، تاہم کچھ علاقوں میں گرمی کا اثر دھان، مکئی اور دالوں جیسی فصلوں پر پڑ سکتا ہے۔ کسانوں کو صبح اور شام کھیتوں میں کام کرنے اور ہلکی آبپاشی کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پانی، بجلی اور دیگر ضروری سہولیات کی مناسب انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ گرمی سے نمٹنے میں لوگوں کو کسی قسم کی دشواری نہ ہو۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 8 سے 14 مئی اور 22 سے 28 مئی کے دوران شمال مغربی، وسطی اور مغربی بھارت کے ساتھ ساتھ مشرقی ساحلی علاقوں میں گرمی بڑھ سکتی ہے۔ جبکہ 1 سے 7 مئی اور 15 سے 21 مئی کے درمیان کئی حصوں میں بارش اور بادلوں کی وجہ سے درجہ حرارت معمول یا اس سے کم رہنے کا امکان ہے۔
ہمالیائی علاقوں کے آس پاس، اڈیشہ، آندھرا پردیش، تمل ناڈو کے ساحلی حصوں، گجرات اور مہاراشٹر میں معمول سے 2 سے 4 دن شدید گرمی کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ کچھ علاقوں میں رات کا درجہ حرارت بھی زیادہ رہ سکتا ہے، جس سے حبس میں اضافہ ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد