جمعہ کی نماز سے پہلے بھوپال میں ہائی الرٹ، اہم مساجد اور حساس علاقوں میں سیکورٹی بڑھا دی گئی
جمعہ کی نماز سے پہلے بھوپال میں ہائی الرٹ، اہم مساجد اور حساس علاقوں میں سیکورٹی بڑھا دی گئی بھوپال، 15 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں آج جمعہ کو جمعہ کی نماز کے حوالے سے پولیس انتظامیہ مکمل طور پر الرٹ موڈ پر نظر آئی۔ پرانے شہر
جمعہ کی نماز سے پہلے بھوپال میں ہائی الرٹ


جمعہ کی نماز سے پہلے بھوپال میں ہائی الرٹ، اہم مساجد اور حساس علاقوں میں سیکورٹی بڑھا دی گئی

بھوپال، 15 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں آج جمعہ کو جمعہ کی نماز کے حوالے سے پولیس انتظامیہ مکمل طور پر الرٹ موڈ پر نظر آئی۔ پرانے شہر اور انتہائی حساس علاقوں میں صبح سے ہی اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔ انتظامیہ کا مقصد نماز کے دوران امن و امان، سیکورٹی اور سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنا ہے۔

دراصل یہ چوکسی حال ہی میں سامنے آنے والے اس متنازعہ معاملے کے بعد بڑھائی گئی ہے، جس میں ایک مسلم نوجوان کے ساتھ مار پیٹ کر کے اس کے چہرے پر سیاہی اور گوبر پوتے جانے کا الزام لگا تھا۔ واقعے کے بعد شہر کی فضا حساس ہے۔ اس معاملے کو لے کر اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدر محسن گوتم نے ملزمان کی جلد گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے وارننگ دی تھی کہ اگر جمعہ تک کارروائی نہ ہوئی تو احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔

پولیس انتظامیہ نے معاملے میں فوری کارروائی کرتے ہوئے اب تک پانچ ملزمان کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے۔ بھوپال پولیس کمشنر سنجے کمار نے بتایا کہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جا چکی ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے افواہوں اور اشتعال انگیز پیغامات سے دور رہنے کی اپیل بھی کی۔ وہیں، بھوپال کے شہر قاضی مولانا سید مشتاق علی ندوی نے ویڈیو پیغام جاری کر کے لوگوں سے امن و امان اور بھائی چارہ برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی اشتعال یا افواہ پر دھیان نہ دیں اور شہر کا امن برقرار رکھنے میں انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔

پرانے بھوپال کے اتوارہ، بدھوارہ اور پیر گیٹ سمیت کئی علاقوں میں سیکورٹی کے انتظامات بڑھا دیے گئے ہیں۔ تاج المساجد، موتی مسجد، جامع مسجد اور کلثوم بیا مسجد کے باہر اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔ نماز کے وقت پولیس مسلسل پٹرولنگ اور نگرانی کر رہی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق دوپہر 12.40 بجے سے 2.45 بجے کے درمیان شہر کی مختلف مساجد میں جمعہ کی نماز ادا کی جائے گی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صورتحال پوری طرح قابو میں ہے اور شہر میں امن برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔

قابلِ ذکر ہے کہ چار دن پہلے ایک ہوٹل میں نوجوان اور لڑکی کے ملنے کے معاملے میں ہندو تنظیموں کے کارکنوں نے مسلم نوجوان کے ساتھ مار پیٹ کی تھی۔ واقعے کا ویڈیو سامنے آنے کے بعد مسلمانوں میں ناراضگی بڑھ گئی تھی۔ اسی حوالے سے منگل کو بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر اترے تھے اور قصورواروں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

--------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande