
موہن باغان کلب کے سابق صدر ٹوٹو بوس کا انتقال، فٹ بال کی دنیا صدمے میں، وزیراعلیٰ شبھیندو نے تعزیت کا اظہار کیا
کولکاتا، 13 مئی (ہ س)۔ موہن باغان کلب کے ممتاز منتظم اور سابق صدر سوپن سادھن بوس عرف ٹوٹو بوس کا منگل کی دیر رات 78 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ طویل عرصے سے علیل بوس نے جنوبی کولکاتا کے ایک نجی اسپتال میں آخری سانس لی۔ پیر کی شام انہیں دل کا دورہ پڑنے کے بعد اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا۔ وزیراعلیٰ شبھیندو ادھیکاری نے ٹوٹو بوس کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ان کے انتقال سے فٹ بال کی دنیا اور بالخصوص کولکاتا کے میدان میں سوگ کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ریاستی وزیرِ کھیل نشیت پرمانک اور آل انڈیا فٹ بال فیڈریشن کے صدر کلیان چوبے نے منگل کو اسپتال میں ان کی عیادت کی تھی۔ وزیراعلیٰ شبھیندو ادھیکاری نے بھی ان کی صحت کے بارے میں معلومات لی تھیں۔ ٹوٹو بوس کو ہندوستانی فٹ بال اور خاص طور پر موہن باغان کی تاریخ میں ایک اہم منتظم کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ ان کے دورِ اقتدار میں کلب نے کئی تاریخی فیصلے لیے۔ سب سے زیادہ زیرِ بحث فیصلہ صنعت کار سنجیو گوئنکا کے ہاتھوں کلب کے مالکانہ حقوق سونپنا رہا، جس کے بعد کلب کے نام کے ساتھ ’اے ٹی کے‘ جڑ گیا۔ اس فیصلے پر اس وقت کافی تنازعہ بھی ہوا تھا۔
ٹوٹو بوس نے موہن باغان میں غیر ملکی فٹ بال کھلاڑیوں کی شروعات بھی کرائی تھی۔ ان کی کوششوں سے نائجیرین فٹ بالر چیما اوکیری کلب سے وابستہ ہوئے اور وہ موہن باغان کے پہلے غیر ملکی کھلاڑی بنے۔ اس فیصلے کو ہندوستانی فٹ بال میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا گیا۔ فٹ بال انتظامیہ کے علاوہ ٹوٹو بوس کی شناخت ایک تاجر اور اخبار کے مالک کے طور پر رہی۔ وہ ترنمول کانگریس سے راجیہ سبھا کے رکن بھی رہے۔ گزشتہ چند برسوں سے خراب صحت کی وجہ سے وہ فعال فٹ بال انتظامیہ سے دور تھے اور ویل چیئر کے سہارے چلنے پھرنے پر مجبور تھے۔ اس کے باوجود موہن باغان کے حامیوں کے درمیان وہ کلب کے سرپرست کے طور پر بیحد محترم رہے۔
گزشتہ برس موہن باغان ڈے کی تقریب میں انہیں ’موہن باغان رتن‘ ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ اس پروگرام میں سورو گانگولی، بائی چونگ بھوٹیا، آئی ایم وجین، جوس بیریٹو اور سبرت بھٹاچاریہ جیسی کھیل کی دنیا کی کئی نامور شخصیات موجود تھیں۔ وزیراعلیٰ شبھیندو ادھیکاری نے ایکس پر جاری کردہ تعزیتی پیغام میں کہا کہ موہن باغان کلب اور ٹوٹو بوس ایک دوسرے کے لازم و ملزوم تھے۔ کھیل کی انتظامیہ میں ان کا تعاون ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ٹوٹو بوس کی قیادت، دور اندیشی اور کھیلوں کے تئیں ان کی لگن آنے والی نسلوں کو ترغیب دیتی رہے گی۔ وزیراعلیٰ نے آنجہانی کی روح کے سکون کے لیے پرارتھنا کرتے ہوئے غمزدہ خاندان، خیر خواہوں اور ان کے لاتعداد مداحوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن