گیہوں کی خریداری میں تاخیر پر مشتعل کسانوں نے چکا جام کیا، جیتو پٹواری نے کلکٹر کو فون کر کے متبادل انتظام کرنے کو کہا
ساگر، 09 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے ساگر میں گیہوں کی خریداری شروع نہیں ہونے سے مشتعل کسانوں نے جمعرات کو سڑک پر اتر کر مورچہ کھول دیا۔ ساگر-بینا روڈ پر واقع زرعی پیداوار منڈی کے باہر سینکڑوں کسانوں نے چکا جام کر کے حکومت اور انتظامیہ کے خلاف
منڈی میں حمالوں کی ہڑتال سے تلائی کا کام مسدود، ریاستی کانگریس صدر نے حکومت کو گھیرا


ساگر، 09 اپریل (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کے ساگر میں گیہوں کی خریداری شروع نہیں ہونے سے مشتعل کسانوں نے جمعرات کو سڑک پر اتر کر مورچہ کھول دیا۔ ساگر-بینا روڈ پر واقع زرعی پیداوار منڈی کے باہر سینکڑوں کسانوں نے چکا جام کر کے حکومت اور انتظامیہ کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔

اسی دوران بھوپال سے چھترپور جا رہے ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری موقع پر پہنچے اور کسانوں کی حمایت میں کھڑے ہو کر براہِ راست انتظامیہ کو نشانہ بنایا۔ کسانوں کا الزام ہے کہ سرکاری اعلان کے مطابق آج سے گیہوں کی خریداری اور تُلائی شروع ہونی تھی۔ کسان اپنی فصل لے کر منڈی پہنچے، لیکن وہاں حمالوں کی ہڑتال کی وجہ سے کام پوری طرح ٹھپ ملا۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ ان کی فصل کھلے آسمان کے نیچے پڑی ہے۔ موسم کے بدلتے مزاج سے فصل خراب ہونے کا ڈر ستا رہا ہے۔ انتظامی بدانتظامی کی وجہ سے گھنٹوں انتظار کے بعد بھی کوئی حل نہیں نکلا۔ چکا جام کے دوران کسانوں نے ایمبولینس اور ہنگامی گاڑیوں کے لیے فوری راستہ چھوڑ کر حساسیت کا ثبوت دیا۔

کسانوں کی جانب سے روکے جانے کے بعد جیتو پٹواری ان کے ساتھ منڈی کے احاطے میں پہنچے۔ وہاں سے پٹواری نے فوری طور پر ساگر کلکٹر سندیپ جی آر کو فون لگایا اور فوری متبادل انتظام کر کے خریداری شروع کرانے کی بات کہی۔ پٹواری نے ریاستی حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر جلد ہی حمالوں کا مسئلہ حل کر کے تُلائی شروع نہیں کی گئی، تو کانگریس پوری ریاست میں کسانوں کے حق کے لیے شدید احتجاج کرے گی۔ کسانوں کے بڑھتے ہوئے دباو کے بعد ضلع انتظامیہ اور منڈی بورڈ حرکت میں آگئے ہیں۔ حکام نے کسانوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ حمالوں سے بات چیت کر کے جلد ہی تُلائی کا عمل بحال کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande