
شرائن بورڈ نے خواتین کے اپنی مدد آپ گروپ کو پرساد و دیگر اشیاء کی فراہمی کے لیے شامل کیا
جموں، 09 اپریل (ہ س)۔ شری ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ نے شمولیاتی ترقی اور نچلی سطح پر بااختیاری کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم اقدام کے تحت 13 سے زائد اپنی مدد آپ گروپ کو پرساد میں استعمال ہونے والے ضروری مذہبی سامان، بشمول رکشا سوتر اور مولی، کی فراہمی کے لیے شامل کر لیا ہے۔
یہ فیصلہ 76ویں بورڈ میٹنگ میں لیا گیا جس کی صدارت لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کی۔ اس موقع پر ایس ایچ جیز، خواتین اور مقامی نوجوان کاروباری افراد سے خریداری کو ترجیح دینے کی پالیسی پر زور دیا گیا تاکہ مقامی برادریوں کو یاترا سے وابستہ معیشت میں شامل کیا جا سکے اور پائیدار روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔
حکام کے مطابق ہر سیلف ہیلپ گروپ میں تقریباً 30 سے 35 خواتین شامل ہیں، جبکہ اس وقت یہ پہل خطے میں تقریباً 450 سے 500 خواتین کو روزگار فراہم کر رہی ہے، جس سے نہ صرف گھریلو آمدنی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ سماجی و معاشی حالات میں بھی بہتری آئی ہے۔چیف ایگزیکٹو آفیسر سچن کمار ویشیا نے کہا کہ ایس ایچ جیز کو سپلائی چین میں شامل کرنے سے مقامی گروپس کے لیے مستقل آمدنی کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور روایتی ہنر کو بھی فروغ مل رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رکھشا سوتر اور مولی جیسی مقدس اشیاء کی تیاری مذہبی پیشکشوں میں اصلیت پیدا کرتی ہے اور خاص طور پر خواتین کے لیے روزگار کے نئے مواقع فراہم کرتی ہے۔
گزشتہ مالی سال کے دوران شرائن بورڈ نے ان ایس ایچ جیز کے لیے تقریباً 3.50 کروڑ روپے کی آمدنی پیدا کرنے میں مدد فراہم کی۔ حکام کے مطابق آئندہ دنوں میں مزید گروپس کو شامل کرنے کا منصوبہ ہے تاکہ اس پہل کو وسعت دیتے ہوئے تقریباً 1500 خواتین کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ یہ اقدام شرائن بورڈ کے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ مقامی معیشت کو مستحکم بنانے، خواتین کی مالی خودمختاری کو فروغ دینے اور مذہبی سیاحت سے جڑے ایک پائیدار ترقیاتی ماڈل کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر