مغربی بنگال میں ووٹر رائٹس اور شہریت سے متعلق خدشات پر اے پی سی آر کی پریس کانفرنس
ووٹر لسٹ سے ایک خاص طبقے سے جڑے لوگوں کے ناموں کے اخراج کا لگایا سنگین الزام نئی دہلی، 7 اپریل(ہ س)۔ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کے زیرِ اہتمام پریس کلب آف انڈیا، نئی دہلی میں منگل کے روز ایک اہم پریس کانفرنس منعقد ہوئی، جس م
مغربی بنگال میں ووٹر رائٹس اور شہریت سے متعلق خدشات پر اے پی سی آر کی پریس کانفرنس


ووٹر لسٹ سے ایک خاص طبقے سے جڑے لوگوں کے ناموں کے اخراج کا لگایا سنگین الزام نئی دہلی، 7 اپریل(ہ س)۔ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کے زیرِ اہتمام پریس کلب آف انڈیا، نئی دہلی میں منگل کے روز ایک اہم پریس کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں مغربی بنگال، خصوصاً مالدہ اور مرشد آباد اضلاع میں اسپیشل انٹینسیو ریویڑن (SIR) کے دوران ووٹر فہرستوں سے ناموں کے اخراج، انتخابی شمولیت میں رکاوٹوں اور شہریت سے متعلق بڑھتے خدشات پر سنجیدہ بات چیت کی گئی۔ مقررین نے کہا کہ انتخابی نظرثانی کے عمل میں سامنے آنے والی بے ضابطگیاں اور غیر شفافیت نہ صرف ووٹر رائٹس کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ جمہوری عمل کی ساکھ پر بھی سوالات کھڑے کر رہی ہیں۔

پروگرام میں مالدہ اور مرشد آباد سے متاثرہ افراد اور خاندانوں کی گواہیاں پیش کی گئیں، جنہوں نے بتایا کہ تمام مطلوبہ دستاویزات رکھنے کے باوجود ان کے نام ووٹر فہرستوں سے حذف کر دیے گئے۔ کئی افراد نے شکایت کی کہ تصدیق کے باوجود ان سے بار بار دوبارہ جانچ کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ بعض معاملات میں ایک ہی خاندان کے اکثر افراد کے نام برقرار رہے مگر کسی ایک فرد کا نام بغیر وضاحت کے خارج کر دیا گیا۔اس موقع پر یہ بھی بتایا گیا کہ بعض بوتھ لیول آفیسرز (BLOs) کے اپنے نام بھی ووٹر فہرستوں سے ہٹا دیے گئے، جس سے پورے عمل کی سنگینی مزید واضح ہوتی ہے۔ مالدہ سے سماجی کارکن محبوب الحق نے کہا کہ محدود وقت، طریق? کار میں تضادات اور انتظامی دباو¿ نے عوام اور فیلڈ اہلکاروں دونوں کو شدید ذہنی دباو¿ میں مبتلا کر دیا ہے۔صبیر احمد نے اعداد و شمار کی بنیاد پر کہا کہ اس عمل سے بعض کمزور طبقات غیر متناسب طور پر متاثر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، جن میں مسلمان، خواتین، ٹرانس جینڈر افراد، جنسی کارکنان اور دیگر حاشیے پر زندگی بسر کر رہی برادریاں شامل ہیں۔ ان کے مطابق خاص طور پر مسلم مردوں کے ناموں کے اخراج کا رجحان زیادہ نمایاں ہے۔

اے۔پی۔سی۔آر کے قومی سکریٹری ندیم خان نے شکایات کے ازالے میں ادارہ جاتی خاموشی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ شہریوں کی بات سننے کے بجائے ان کے مسائل میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض مقامات پر ناموں کی منسوخی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو ہراسانی اور دباو¿ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔معروف سینئر ایڈووکیٹ پرشانت بھوشن نے اس پورے عمل کی قانونی اور آئینی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے لیے مقررہ اصول و ضوابط اور شفافیت کے تقاضوں پر مکمل عمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔پروفیسر اجیت جھا نے کہا کہ اگر انتخابی عمل اس نہج پر پہنچ جائے کہ ووٹر حکومت منتخب کرنے کے بجائے خود انتخابی عمل کی زد میں آ جائیں، تو یہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے لیے خطرناک اشارہ ہے۔

نشست کی نظامت کرنے والی بنجیوتسنا لاہڑی نے کہا کہ یہ واقعات محض انفرادی نوعیت کے نہیں بلکہ ایک وسیع تر پیٹرن کی نشاندہی کرتے ہیں، جس کے اثرات خاص طور پر کمزور اور حاشیائی طبقات پر زیادہ پڑ رہے ہیں۔کانفرنس کے اختتام پر شرکا نے مطالبہ کیا کہ انتخابی نظرثانی کے عمل میں شفافیت، جواب دہی، قانونی تحفظ اور مو¿ثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ کوئی بھی اہل شہری غیر شفاف یا امتیازی عمل کے باعث اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ ہو۔کانفرنس میں سینئر وکلا، ماہرینِ تعلیم، سماجی کارکنان، سیاسی نمائندوں اور متاثرہ افراد سمیت بڑی تعداد میں اہم شخصیات نے شرکت کی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande