بھارتیہ بحریہ کو ملا مہندرگیری جنگی جہاز، براہموس میزائل سے بڑھے گی سمندری طاقت
نئی دہلی، 30 اپریل ( ہ س ) ۔ بھارتیہ بحریہ کو پروجیکٹ 17 اے کے تحت بنایا گیا آخری اسٹیلتھ فریگیٹ “مہندرگیری” جمعرات کو مل گیا۔ ممبئی میں مزگاؤں ڈاک شپ بلڈرز لمیٹڈ (ایم ڈی ایل) نے یہ چوتھا دیسی ساختہ جہاز بحریہ کے حوالے کیا، جس سے بھارت کی سمندری طا
بھارتیہ بحریہ کو ملا مہندرگیری جنگی جہاز، براہموس میزائل سے بڑھے گی سمندری طاقت


نئی دہلی، 30 اپریل ( ہ س ) ۔ بھارتیہ بحریہ کو پروجیکٹ 17 اے کے تحت بنایا گیا آخری اسٹیلتھ فریگیٹ “مہندرگیری” جمعرات کو مل گیا۔ ممبئی میں مزگاؤں ڈاک شپ بلڈرز لمیٹڈ (ایم ڈی ایل) نے یہ چوتھا دیسی ساختہ جہاز بحریہ کے حوالے کیا، جس سے بھارت کی سمندری طاقت میں کافی اضافہ ہوگا۔ اس جہاز کا نام اڈیشہ کے مشرقی گھاٹ کی ایک پہاڑی چوٹی کے نام پر رکھا گیا ہے، اور اس پر براہموس میزائل بھی لگایا جا سکتا ہے۔

پروجیکٹ 17 اے کے تحت ایم ڈی ایل کو چار اور گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز لمیٹڈ (جی آر ایس ای) کو تین جہاز بنانے کا کام دیا گیا تھا۔ اس منصوبے کے پہلے چھ جہاز—تارگیری، اُدےگیری، دوناگیری، نیلگیری، ہِمگیری اور وِندھیہ گیری—2019 سے 2023 کے درمیان لانچ ہو چکے ہیں۔ صدر دروپدی مرمو نے 17 اگست کو کولکاتا میں وِندھیہ گیری کو لانچ کیا تھا۔ ان سب جہازوں کے نام بھارت کی پہاڑی سلسلوں پر رکھے گئے ہیں۔

“مہندرگیری” کو یکم ستمبر 2023 کو اُس وقت کے نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ کی اہلیہ ڈاکٹر سدیش دھنکھڑ نے ریموٹ کے ذریعے سمندر میں اتارا تھا۔ ان جہازوں کا ڈیزائن بھارتی بحریہ کے وارشپ ڈیزائن بیورو نے خود تیار کیا ہے۔ شوالک کلاس کے بعد ان میں بہتر اسٹیلتھ فیچرز، جدید ہتھیار، سینسرز اور مینجمنٹ سسٹم شامل ہیں۔ اس جہاز میں تقریباً 75 فیصد دیسی مواد استعمال ہوا ہے۔

بحریہ کے مطابق، پروجیکٹ 17 اے کے جہاز بنانے کے لیے ایم ڈی ایل نے اپنی ٹیکنالوجی اور مہارت کو مزید بہتر بنایا ہے۔ یہ جہاز گیس ٹربائن سے چلتا ہے اور ایک بڑا جنگی پلیٹ فارم ہے۔ اس منصوبے میں زیادہ تر سامان مقامی سپلائرز سے لیا گیا ہے، جس سے 2000 سے زیادہ بھارتی اداروں اور ایم ایس ایم ایز کو روزگار ملا ہے۔

جہاز کی حوالگی کے موقع پر ایم ڈی ایل کے سی ایم ڈی کیپٹن جگموہن اور مشرقی بحری کمان کے افسر ریئر ایڈمرل گوتم مارواہ نے دستاویزات پر دستخط کیے۔ یہ جہاز ایم ڈی ایل کی مہارت اور بھارت کی “میک ان انڈیا” پالیسی کی مضبوط مثال ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande