سرکاری اسکولوں میں بچوں کو کتابیں فراہم کرنے میں تاخیر پر دہلی حکومت کو نوٹس
نئی دہلی، 30 اپریل (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے دہلی کے سرکاری اسکولوں کو نصابی کتابیں فراہم کرنے میں تاخیر پر دہلی حکومت کی سرزنش کی ہے۔ جسٹس سچن نے اس معاملے میں دائر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے دہلی حکومت کو نوٹس جاری کیا۔ کیس کی اگلی
HC-Delhi-govt-School-Books


نئی دہلی، 30 اپریل (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے دہلی کے سرکاری اسکولوں کو نصابی کتابیں فراہم کرنے میں تاخیر پر دہلی حکومت کی سرزنش کی ہے۔ جسٹس سچن نے اس معاملے میں دائر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے دہلی حکومت کو نوٹس جاری کیا۔ کیس کی اگلی سماعت 30 ستمبر کو ہوگی۔

سماعت کے دوران دہلی حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ گرمیوں کی تعطیلات سے قبل دہلی کے تمام سرکاری اسکولوں میں طلباءکو نصابی کتابیں دستیاب کر دی جائیں گی۔ عدالت نے اس دلیل کو ریکارڈ کرتے ہوئے اس پرجواب اور اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی ۔

درخواست سوشل جیورسٹ نامی تنظیم نے دائر کی تھی۔ درخواست گزار کی نمائندگی کرنے والے ایڈوکیٹ اشوک اگروال نے کہا کہ عدالت کو حکومت کی یقین دہانیوں کے باوجود 2026-27 تعلیمی سال کے لیے نصابی کتابیں ابھی تک طلبا کو دستیاب نہیں کرائی گئی ہیں۔ عدالت کے سابقہ احکامات کی جان بوجھ کر خلاف ورزی کی گئی ہے۔ دہلی حکومت نے اپریل 2024 میں عدالت کو یقین دلایا تھا کہ وہ طلبائکو وقت پر تدریسی مواد فراہم کرے گی۔ تعلیمی سال یکم اپریل سے شروع ہوتا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ نصابی کتب کی کمی کے باعث طلباءکی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے۔ اس سے سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں میں طلباءکے درمیان نمایاں فرق پیدا ہو جائے گا۔ موسم گرما کی تعطیلات بھی 9 مئی کے بعد شروع ہوں گی۔ یہ حق تعلیم قانون کی خلاف ورزی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande