بنگال : سی ای او دفتر کے باہر ہنگامہ، ترنمول کے دو کونسلروں سمیت چھ کے خلاف ایف آئی آر
بنگال : سی ای او دفتر کے باہر ہنگامہ، ترنمول کے دو کونسلروں سمیت چھ کے خلاف ایف آئی آر کولکاتا، 03 اپریل (ہ س)۔ مغربی بنگال کے چیف الیکشن آفیسر (سی ای او) کے دفتر کے باہر ہونے والے ہنگامے کے معاملے میں چھ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہ
ریاستی چیف الیکشن آفیسر منوج اگروال دیگر حکام کے ساتھ


بنگال : سی ای او دفتر کے باہر ہنگامہ، ترنمول کے دو کونسلروں سمیت چھ کے خلاف ایف آئی آر

کولکاتا، 03 اپریل (ہ س)۔ مغربی بنگال کے چیف الیکشن آفیسر (سی ای او) کے دفتر کے باہر ہونے والے ہنگامے کے معاملے میں چھ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پولیس نے جمعہ کی علی الصبح یہ اطلاع دی۔ ملزمان میں کولکاتا میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کے ترنمول کانگریس کے دو کونسلرز بھی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق، ہیئر اسٹریٹ تھانے میں وارڈ نمبر 32 کے کونسلر شانتی رنجن کنڈو اور وارڈ نمبر 36 کے کونسلر سچن سنگھ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ محمد وسیم، معیدل، چندر کانت سنگھ اور محمد رضوان علی کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔

ان سب کے خلاف غیرضمانتی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ان پر غیر قانونی طور پر جمع ہونے اور سرکاری ملازمین کے کام میں رخنہ ڈالنے کا الزام ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق، 31 مارچ اور یکم اپریل کی دیر رات ملزمان ہیئر اسٹریٹ اور اسٹرینڈ روڈ چوراہے پر واقع الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے غیر قانونی طور پر جمع ہوئے تھے۔ پولیس کی بار بار اپیل کے باوجود وہ وہاں سے نہیں ہٹے اور سرکاری کام کاج میں رخنہ ڈالتے رہے۔

ہجوم کی وجہ سے سڑک جزوی طور پر جام ہو گئی، جس سے ٹریفک متاثر ہوا اور عام لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ الزام ہے کہ اس دوران ریاست کے چیف الیکشن آفیسر منوج کمار اگروال کے خلاف اشتعال انگیز نعرے بھی لگائے گئے۔ پولیس نے ایف آئی آر کی بنیاد پر تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کی جا سکتی ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ تنازعہ کی شروعات ووٹر لسٹ میں نئے نام شامل کرنے کے لیے استعمال ہونے والے فارم-6 کو لے کر ہوئی تھی۔ منگل کی دوپہر سے اس معاملے پر کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ ترنمول حامیوں کا الزام تھا کہ کچھ لوگ فارم-6 سے بھرے بیگ لے کر سی ای او دفتر میں داخل ہوئے تھے اور بیرونی لوگوں کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کی کوشش ہو رہی تھی۔ اسی دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکن بھی وہاں پہنچ گئے اور دونوں فریقین کے درمیان نعرے بازی شروع ہو گئی۔

صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس کو بیریکیڈنگ کرنی پڑی اور مرکزی فورسز بھی تعینات کی گئیں۔ واقعے کے بعد بدھ تک کشیدگی کی صورتحال برقرار رہی۔ پولیس نے علاقے میں دفعہ 163 کا دائرہ بھی بڑھا دیا تھا۔ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande