
ایم پی اسمبلی میں آدھی رات کو کھلا سکریٹریٹ، جیتو پٹواری نے سنگین الزامات عائد کئے، راجیندر بھارتی کی رکنیت خطرے میں
بھوپال، 03 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں جمعرات کی دیر رات ایک غیر معمولی اور سیاسی طور پر حساس واقعہ دیکھنے کو ملا۔ دیر رات اسمبلی سکریٹریٹ کھلنے کی خبر پھیلتے ہی سیاسی ہلچل تیز ہو گئی۔ ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری رات تقریباً 11 بجے اچانک اسمبلی پہنچے۔ ان کے ساتھ کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق وزیر پی سی شرما بھی موجود تھے۔
اسمبلی پہنچتے ہی پٹواری براہِ راست پرنسپل سکریٹری اروند شرما کے چیمبر میں پہنچے۔ یہاں انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس رکن اسمبلی راجیندر بھارتی کی رکنیت ختم کرنے کا عمل شروع کرنے کے لیے آدھی رات کو اسمبلی سکریٹریٹ کھولا گیا ہے۔ پٹواری نے اسے بھارتیہ جنتا پارٹی کے اشارے پر کی جانے والی کارروائی قرار دیا۔ کانگریس رہنماوں کے پہنچنے پر سکریٹری تھوڑی دیر میں آفس سے چلے گئے۔
ذرائع کے مطابق، عدالت کے فیصلے کے بعد دیر رات تقریباً ساڑھے 10 بجے اسمبلی سکریٹریٹ میں سرگرمیاں شروع ہوئیں۔ پرنسپل سکریٹری کے پہنچنے کے بعد سکریٹریٹ کھولا گیا اور رکن اسمبلی کی نشست خالی قرار دینے کے عمل پر کام شروع ہونے کے تذکرے ہوئے۔ اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی کانگریس رہنما سرگرم ہو گئے۔ پہلے پی سی شرما پہنچے اور کچھ ہی دیر بعد جیتو پٹواری بھی وہاں پہنچ گئے۔ دونوں رہنماوں نے حکام سے سوال کیا کہ آدھی رات کو اسمبلی کیوں کھولی گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ کانگریس رہنماوں کے پہنچنے کے کچھ وقت بعد پرنسپل سکریٹری وہاں سے نکل گئے۔ اس کے بعد باہر آکر پٹواری نے میڈیا سے کہا کہ یہ پوری کارروائی سیاسی دباو میں کی جا رہی ہے۔
دراصل، دتیا سے کانگریس رکن اسمبلی راجیندر بھارتی کو دہلی کی راوس ایونیو کورٹ نے ایف ڈی فرضی واڑے کے معاملے میں 3 سال کی سزا سنائی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت کا ہے جب وہ ضلع کوآپریٹو ایگریکلچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ بینک کے صدر تھے۔ الزامات کے مطابق بینک کے ریکارڈ اور ایف ڈی دستاویزات میں ہیرا پھیری کی گئی، مدت اور شرحِ سود میں تبدیلی کر کے غیر قانونی فائدہ لیا گیا، تقریباً لاکھوں روپے کا ناجائز فائدہ حاصل کیا گیا۔
عدالت نے اس معاملے میں بھارتی کے ساتھ ایک اور ملزم کو بھی قصوروار ٹھہراتے ہوئے جرمانہ عائد کیا ہے۔ تاہم عدالت نے سزا سنانے کے ساتھ ہی کچھ راحت بھی دی ہے۔ عدالت نے 3 سال کی سزا سنانے کے ساتھ ہی انہیں ضمانت دے دی ہے، جس سے انہیں فوری طور پر جیل نہیں جانا پڑے گا۔ تاہم قانون کے مطابق، 2 سال یا اس سے زیادہ کی سزا ہونے پر عوامی نمائندے کی رکنیت منسوخ ہو سکتی ہے۔ ایسے میں ان کی رکنیت پر خطرہ منڈلا رہا ہے۔ لیکن ابھی راجیندر بھارتی کے پاس کچھ متبادل موجود ہیں، جن میں وہ اپنی سزا کو چیلنج کر سکتے ہیں۔
جیتو پٹواری نے الزام لگایا کہ ’راجیندر بھارتی کی رکنیت ختم کرنے کے لیے بی جے پی کے اشارے پر رات میں ہی اسمبلی سکریٹریٹ کھولا گیا ہے۔‘ وہیں پی سی شرما نے بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب اسمبلی چلنی چاہیے تھی تب نہیں چلائی گئی، لیکن اب آدھی رات کو کارروائی کی جا رہی ہے۔ کانگریس نے اشارہ دیا ہے کہ اگر عمل میں بے قاعدگی پائی گئی تو ذمہ دار حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جائے گا۔
بھارتی خاندان کی جانب سے اشارہ دیا گیا ہے کہ وہ جلد ہی ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے۔ اس معاملے میں سینئر وکلاء کپل سبل اور وویک تنکھا پیروی کر سکتے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق، چونکہ معاملہ مجرمانہ نوعیت کا ہے، اس لیے راحت ملنا آسان نہیں ہوگا۔ اب حتمی فیصلہ ہائی کورٹ کے رخ پر منحصر ہوگا۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ راجیندر بھارتی نے 2023 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے قدآور رہنما اور سابق وزیرِ داخلہ نروتم مشرا کو ہرایا تھا۔ ایسے میں یہ پورا واقعہ نہ صرف قانونی بلکہ گہرے سیاسی اثرات والا بھی مانا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن