ٹرمپ نے ایران کے طویل مدتی محاصرے کی تیاری کی ہدایات جاری کردی
واشنگٹن،29اپریل(ہ س)۔ امریکی حکام نے اطلاع دی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے معاونین کو ایران کے طویل مدتی محاصرے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات اب بھی تعطل کا شکار ہیں۔ح
ٹرمپ نے ایران کے طویل مدتی محاصرے کی تیاری کی ہدایات جاری کردی


واشنگٹن،29اپریل(ہ س)۔

امریکی حکام نے اطلاع دی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے معاونین کو ایران کے طویل مدتی محاصرے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات اب بھی تعطل کا شکار ہیں۔حکام نے آج بدھ کے روز ذکر کیا ہے کہ حال ہی میں منعقدہ اجلاسوں کے دوران امریکی صدر نے ایرانی بندرگاہوں سے جہاز رانی کی آمد و رفت روک کر ایرانی معیشت اور تیل کی برآمدات پر دباو¿ جاری رکھنے کا انتخاب کیا ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق حکام نے مزید واضح کیا کہ صدر کی رائے میں دیگر راستے، مثلا دوبارہ بم باری شروع کرنا یا تنازع سے دست بردار ہو جانا، محاصرہ برقرار رکھنے کے مقابلے میں زیادہ بڑے خطرات کے حامل ہیں۔

دوسری جانب ایک اعلیٰ امریکی عہدے دار نے کہا ہے کہ محاصرہ ایرانی معیشت پر شدید دباو¿ ڈال رہا ہے، کیونکہ تہران کو اپنے تیل کو ذخیرہ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں واشنگٹن کے ساتھ رابطے کی کوششوں میں تیزی آئی ہے۔ حکام نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ فی الحال اپنے اس مطالبے سے پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہیں رکھتے کہ ایران کم از کم 20 سال تک یورینیم کی افزودگی معطل کرنے کا عہد کرے اور بعد میں عائد ہونے والی پابندیوں کو بھی قبول کرے۔اس کے برعکس ایران نے ثالثوں کو مطلع کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ترمیم شدہ تجویز پیش کرنے سے پہلے اسے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ مشاورت کے لیے چند دن درکار ہیں۔ دریں اثنا با خبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں موجود ثالثوں کو جنگ ختم کرنے کے لیے اگلے چند دنوں میں ایران کی جانب سے ایک ترمیم شدہ تجویز ملنے کی توقع ہے۔ یہ بات منگل کو امریکی نیوز چینل سی این این نے اپنی رپورٹ میں بتائی۔ذرائع نے مزید بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی روس کے دورے کے بعد آج تہران واپس پہنچیں گے اور توقع ہے کہ وہ نظام کے قائدین سے مشاورت کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ مذاکراتی عمل سست ہے، کیونکہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ رابطہ کرنا مشکل ہے، جن کی موجودگی کے مقام کو انتہائی خفیہ رکھا گیا ہے۔

تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ عمل اب بھی جاری ہے اور بدل رہا ہے اور بہت کچھ اس بات پر منحصر ہوگا کہ آیا ایران ایسی ترمیم شدہ تجویز کے ساتھ واپس آتا ہے جو امریکہ کے لیے زیادہ قابلِ قبول ہو۔واضح رہے کہ ایرانی تجویز میں یہ کہا گیا تھا کہ جوہری پروگرام پر بحث کو جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز سے بحری جہاز رانی سے متعلق تنازعات کے حل تک موخر کر دیا جائے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande