
پیرس،29اپریل(ہ س)۔ایک فرانسیسی سفارتی ذریعے نے آج منگل کے روز اطلاع دی ہے کہ پیرس خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر ایران کی جانب سے درپیش چیلنج کے مستقل حل تک پہنچنے کے لیے کام کر رہا ہے۔وزیر خارجہ جین نوئل بارو کے خلیجی دورے کے آغاز سے قبل مذکورہ ذریعے نے العربیہ/الحدث سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خارجہ دورے کے دوران ایران کے حوالے سے خلیجی ممالک کے ساتھ مشترکہ لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کریں گے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ فرانس اور خلیجی ممالک کے درمیان مشترکہ سکیورٹی اور اقتصادی مفادات پائے جاتے ہیں۔انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ لبنان کے استحکام کو برقرار رکھنے اور اس کے داخلی توازن کو سمجھنے پر فرانسیسی اور سعودی عرب کے درمیان اتفاق رائے موجود ہے۔
مزید برآں ذریعے نے کہا کہ حزب اللہ تنظیم اب زیادہ جارحانہ ہو چکی ہے اور وہ اپنی جنگوں کے لیے لبنان کو یرغمال بنا رہی ہے۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانسیسی وزیر خارجہ بدھ کو سعودی عرب، جمعرات کو قطر اور متحدہ عرب امارات اور جمعے کو سلطنت عمان کا دورہ کریں گے۔
یاد رہے کہ لبنان میں گذشتہ 2 مارچ کو شروع ہونے والی حالیہ جنگ اس وقت چھڑی تھی جب حزب اللہ تنظیم نے 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے پہلے دن ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے جواب میں اسرائیل پر راکٹ داغے تھے۔اس دوران اسرائیل نے لبنان پر وسیع پیمانے پر فضائی بم باری کی مہم شروع کی تھی اور اس کی افواج جنوبی لبنان کے علاقوں میں داخل ہو گئی تھیں۔واضح رہے کہ 17 اپریل سے دس روزہ جنگ بندی نافذ العمل ہوئی تھی، تاہم اسرائیل نے جنگ بندی کے نفاذ کے بعد بھی جنوب کے بعض علاقوں میں اپنی افواج کو برقرار رکھا۔ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 23 تاریخ کو اس میں تین ہفتوں کی توسیع کا اعلان کیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan