
واشنگٹن،29اپریل(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز وائٹ ہاو¿س میں منعقدہ ایک عشائیے جس میں برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم بھی شریک تھے، کہا کہ امریکہ نے ایران کو عسکری طور پر شکست دی ہے۔ایران سے متعلق ایک امریکی عہدیدار نے بھی عندیہ دیا کہ زمینی حملے کے امکانات میں کمی آ رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے عشائیے کے آغاز میں ایران کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: ہم نے اس حریف کو فوجی طور پر شکست دی ہے اور ہم اسے کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں بادشاہ چارلس مجھ سے بھی زیادہ متفق ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بادشاہ چارلس ایران کو ایٹمی بم حاصل کرنے سے روکنے کے مو¿قف کی حمایت کرتے ہیں۔ایران کے ساتھ جاری تنازع ختم کرنے کی کوششیں منگل کے روز تعطل کا شکار ہو گئیں، جب ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کی تازہ تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران نے امریکہ کو بتایا ہے کہ وہ انتہائی کمزور حالت میں ہے اور اپنی قیادت کو ازسرِنو ترتیب دینے میں مصروف ہے۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ٹروتھ سوشل'' پر لکھا: ایران نے ابھی ہمیں بتایا ہے کہ وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھول دیں، جبکہ وہ اپنی قیادت کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہے (اور میرا خیال ہے وہ اس میں کامیاب ہو جائے گا!)۔دوسری جانب، تنازع کے حل کے لیے ایران کی تازہ تجویز میں کہا گیا ہے کہ اس کے جوہری پروگرام پر بات چیت جنگ کے خاتمے اور بحری ناکہ بندی سے متعلق اختلافات کے حل تک مو¿خر کر دی جائے۔اس کے برعکس ایرانی فوج کے ترجمان نے سرکاری میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران جنگ کو ختم شدہ نہیں سمجھتا۔28 فروری کو جنگ کے آغاز کے بعد سے تہران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج سے گزرنے والی بحری آمد و رفت پر تقریباً مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے، سوائے اپنی کشتیوں کے۔ یہ آبی راستہ عالمی توانائی سپلائی کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔اسی ماہ امریکہ نے ان ایرانی جہازوں کی نقل و حرکت پر کنٹرول شروع کر دیا ہے جو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ادھر امن کی کوششوں کو بھی دھچکا لگا جب ٹرمپ نے چند روز قبل اپنے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کا پاکستان کا دورہ منسوخ کر دیا، جو اس تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan