اسرائیلی وزیر خارجہ نے ایران پر حملے کی اصلی وجہ ظاہر کر دی
تہران،29اپریل(ہ س)۔موساد کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے بعد کہ اسرائیل نے ایران کے اندر سے قیمتی معلومات حاصل کر لی ہیں، اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے گذشتہ فروری کے آخر میں امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کی وجہ بیان کر دی ہے۔’
اسرائیلی وزیر خارجہ نے ایران پر حملے کی اصلی وجہ ظاہر کر دی


تہران،29اپریل(ہ س)۔موساد کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے بعد کہ اسرائیل نے ایران کے اندر سے قیمتی معلومات حاصل کر لی ہیں، اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے گذشتہ فروری کے آخر میں امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کی وجہ بیان کر دی ہے۔’امریکن فرینڈز آف لیکوڈ‘ کے ارکان کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران ساعر نے واضح کیا کہ تہران نے گذشتہ سال (2025) جون میں ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد سے دوبارہ یورینیم کی افزودگی شروع نہیں کی تھی، جو کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابقہ دعوے کے برعکس ہے۔

تاہم اسرائیلی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ تل ابیب نے فروری میں جنگ کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ ایرانی اپنے ایٹمی پروگرام کو زمین کی اتھاہ گہرائیوں میں منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت نے گزشتہ منگل کو ہونے والے اس اجلاس کی ریکارڈنگ کے حوالے سے بتایا کہ ساعر نے کہا جنگ سے پہلے تہران نے اپنے ایٹمی پروگرام کو زیرِ زمین منتقل کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا تھا تاکہ وہ کسی بھی امریکی یا اسرائیلی حملے سے محفوظ ہو جائے، اس لیے ہمیں کارروائی کرنی پڑی۔

علاوہ ازیں انہوں نے اشارہ کیا کہ ایرانی نظام کا خاتمہ ان مقاصد میں شامل نہیں تھا، برخلاف ان اشاروں کے جو ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو جنگ کے آغاز پر بارہا دیتے رہے تھے۔ تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر نظام کی تبدیلی کا موقع ملا تو تل ابیب اس کے حصول کے لیے یقیناً قدم اٹھائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اب بڑے معاشی نقصانات کا شکار ہو رہا ہے جس کے نتائج ناقابلِ پیش گوئی ہیں۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے پاکستانی ثالث کو ایک نئی ترمیم شدہ تجویز پیش کی ہے جو تین مراحل پر مشتمل ہے۔ اس کا آغاز بین الاقوامی ضمانتوں کے ساتھ جنگ بندی اور ایرانی بندرگاہوں سے امریکی بحری محاصرے کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کھولنے سے ہوگا، جس کے بعد ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کیے جائیں گے۔تاہم امریکی صدر کی انتظامیہ اس قسم کی تجویز منظور کرنے کی طرف مائل نظر نہیں آتی، خاص طور پر اس لیے کہ وہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ایٹمی مسئلہ حل کرنے اور ایران کو یورینیم کی افزودگی کے حق سے محروم کرنے کے مطالبے پر قائم ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande