امریکہ نے پوتین کو جی- 20 اجلاس میں شرکت کی دعوت دے دی
ماسکو،25اپریل(ہ س)۔ کریملن نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین دسمبر میں امریکہ کے شہر میامی میں منعقد ہونے والے جی-20 سربراہی اجلاس میں شرکت کر سکتے ہیں۔یہ اس کے بعد ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پوتین کی موجودگی انتہائی مفید ہو گی اور
امریکہ نے پوتین کو جی- 20 اجلاس میں شرکت کی دعوت دے دی


ماسکو،25اپریل(ہ س)۔

کریملن نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین دسمبر میں امریکہ کے شہر میامی میں منعقد ہونے والے جی-20 سربراہی اجلاس میں شرکت کر سکتے ہیں۔یہ اس کے بعد ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پوتین کی موجودگی انتہائی مفید ہو گی اور روس کو جی-8 سے نکالنا ایک غلطی تھی۔ ایک باخبر امریکی عہدیدار نے جمعہ کو کہا کہ امریکہ نے روس کو جی-20 کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے جس کی میزبانی واشنگٹن اس سال میامی میں کر رہا ہے۔ عہدیدار نے مزید کہا کہ ماسکو نے دعوت قبول کر لی ہے۔

روسی صدر پوتین نے 2019 سے کووڈ-19 کی وبا کی وجہ سے اور پھر 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کی وجہ سے جی-20 اجلاس میں شرکت نہیں کی جس نے ماسکو اور مغربی ممالک کے درمیان سرد جنگ کے عروج کے بعد سے تعلقات میں سب سے بڑا بحران پیدا کر دیا تھا۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے سرکاری ٹیلی ویڑن کے رپورٹر پاول زروبن کو بتایا کہ ممکن ہے صدر پوتین جی-20 کے رکن کی حیثیت سے میامی جائیں، یا شاید نہ جائیں، یا ہو سکتا ہے کوئی اور روسی نمائندہ چلا جائے۔

واشنگٹن پوسٹ نے جمعرات کو کہا تھا کہ ٹرمپ پوتین کو سربراہی اجلاس میں مدعو کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم انہوں نے بعد میں صحافیوں کو بتایا کہ وہ دعوت کے معاملے یا اس بارے میں نہیں جانتے کہ آیا پوتین شرکت کریں گے یا نہیں۔امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے کہا کہ ابھی تک رسمی دعوت نامے جاری نہیں کیے گئے۔ عہدیدار ، جس نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، نے مزید کہا کہ لیکن روس جی- 20 کا رکن ہے اور اسے وزارتی اجلاسوں اور قائدین کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کیا جائے گا۔دمتری پیسکوف نے کہا کہ روس کی سربراہی اجلاس میں ہر حال میں مناسب نمائندگی ہو گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماسکو جی-20 اجلاس کو دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے بحرانوں کے پیش نظر انتہائی اہم سمجھتا ہے۔

کریملن نے گزشتہ سال کہا تھا کہ وہ ٹرمپ کی اس بات سے اتفاق کرتا ہے کہ 2014 میں روس کو جی-8 سے نکالنا ایک غلطی تھی، لیکن وہ گروپ، جو اس کے بعد جی-7 بن گیا، اب روس کے لیے اہمیت کا حامل نہیں رہا اور کسی حد تک بیکار نظر آتا ہے۔ روسی خبر رساں اداروں نے روس کے نائب وزیر خارجہ الیگزینڈر پانکن کے حوالے سے بتایا کہ روس کو میامی میں جی- 20 سربراہی اجلاس میں اعلیٰ ترین سطح پر شرکت کی دعوت موصول ہو گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande