
بہرائچ، 25 اپریل (ہ س)۔ پڑوسی ملک نیپال کی بلین شاہ حکومت نے نیا ٹیکس لگا دیا ہے۔ نیپال حکومت نے بھارت سے درآمد کی جانے والی اشیا پر ٹیکس لگانے کے علاوہ سرحدی کنٹرول بھی سخت کر دیا ہے۔ حکومت نے 100 نیپالی روپے یا 62 ہندوستانی روپے سے زیادہ کی اشیا پر نیپال کسٹم ڈیوٹی عائد کر دی ہے۔ اس ڈیوٹی کے نفاذ کا سب سے زیادہ اثر سرحدی منڈی پر پڑ رہا ہے۔اس سے پہلے نیپالی شہری روزانہ گھریلو سامان کی خریداری کے لیے سرحد پار کر کے ہندوستانی بازاروں میں آتے تھے۔ اس فیصلے کا سب سے زیادہ اثر سرحدی ہندوستانی بازاروں خاص طور پر روپئی ڈیہا، بابا گنج اور نانپارہ میں پڑتا نظر آرہا ہے۔سرحدی تاجروں کے مطابق نیپال حکومت کے اس فیصلے سے تجارت میں 40 فیصد سے زائد کمی آئی ہے۔ ہندوستانی تاجر بھی اس اقدام سے ناراض ہیں۔ نیپال کی سرحد سے متصل بھارتی بازاروں میں نیپالی شہریوں کو سبزی، چاول ، دال کے علاوہ برتن اور جوتے چپل وغیرہ بھی سستی قیمت پر مل جاتے ہیں۔اس کی وجہ سے نیپالی شہری روپئی ڈیہا، بابا گنج اور نانپارہ کے بازار میں کافی مقدار میں بھارتی اشیاءکی خرید کرتے ہیں۔ایک کپڑاتاجر دانش فرمان رضا نے بتایا کہ نیپالی گاہک بڑی تعداد میں خریداری کے لیے آتے تھے۔ اب بازار ویران ہے۔ صبح اپنی دکان کھولنے کے بعد اسے شام تک نیپالی گاہکوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔اسی طرح جوتوں کے تاجر عبدالسلام نے کہا کہ مارکیٹ کی صورتحال ابتر ہو چکی ہے۔ دکانیں کھلتی ہیں، لیکن گاہکوں کی کمی کی وجہ سے کچھ دیر بعد بند کرنے پر مجبور ہیں۔ جس سے کاروبار پر شدید اثر پڑا ہے۔کیرانا تاجر آصف صدیقی نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیپالی شہری اب صرف سیر کے لیے آتے ہیں۔ خریداری میں ان کی دلچسپی ختم ہو گئی ہے۔ ٹیکس کے خوف سے لوگ اشیاءخریدنے سے گریز کر رہے ہیں۔ فروخت عملی طور پر رک گئی ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan