فیروز آباد میں بن رہا ہے ملک کا پہلا ’گلاس میوزیم‘ ، دنیا دیکھے گی 'سہاگ نگری' کا ہنر
فیروز آباد، 25 اپریل (ہ س)۔شیشے کی اشیاءکے لئے مشہور اترپردیش کا فیروز آباد ضلع اب اپنی روایتی چوڑی شناخت سے بالاتر ہوکر عالمی سیاحت کے نقشے پر ایک چمکتا ہوا مرکز بننے جا رہا ہے۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی اہم اسکیم”ایک ضلع، ایک پروڈکٹ“ ( او ڈی ا
UP-FIROZABAD-GLASS-MYUJIYAM


فیروز آباد، 25 اپریل (ہ س)۔شیشے کی اشیاءکے لئے مشہور اترپردیش کا فیروز آباد ضلع اب اپنی روایتی چوڑی شناخت سے بالاتر ہوکر عالمی سیاحت کے نقشے پر ایک چمکتا ہوا مرکز بننے جا رہا ہے۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی اہم اسکیم”ایک ضلع، ایک پروڈکٹ“ ( او ڈی او پی ) کو نئی بلندیوں پر لے جاتے ہوئے ریاستی حکومت فیروز آباد میں ہندوستان کا پہلا عظیم الشان شیشے کا میوزیم تعمیر کروا رہی ہے۔ تقریباً 47.47 کروڑ روپے کی لاگت سے بنایا جا رہا یہ میوزیم نہ صرف شیشے کے فن کی نمائش کرے گا بلکہ یہ مقامی معیشت اور سیاحت کے لیے گیم چینجر بھی ثابت ہوگا۔

فیروز آباد کی شیشے کی صنعت صرف ایک کاروبار نہیں ہے بلکہ شہر کی نصف سے زیادہ آبادی کی لائف لائن ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ شہر کی شیشے کی صنعت سے تقریباً پانچ سے چھ لاکھ افراد بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر وابستہ ہیں۔ پچاس ہزار خاندان صرف چوڑیوں کی تیاری اور سجاوٹ میں مصروف ہیں۔ یوگی حکومت کا مقصد اس وسیع افرادی قوت کی مہارت کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ یہ میوزیم اس سمت میں ایک بڑا قدم ہے، جو نہ صرف دستکاروں کو ایک عالمی پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے بلکہ روزگار کے ہزاروں نئے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔

شیشے کی اشیاء کے لئے دنیا بھر میں مشہورف

فیروز آباد،، ایم ایس ایم ای سیکٹر میں ہندوستان کی کل شیشے کی پیداوار کا تقریباً 70 فیصد حصہ ہے۔ یہاں تقریباً 465 فعال گلاس مینوفیکچرنگ یونٹس ہیں۔ ان میں پوٹ فرنیس (چوڑیوں کے لیے)، ٹینک فرنیس (برتن اور بلب کے لیے) اور مفل فرنیس (چوڑیوں کو فنیشنگ اور ہیٹ ٹریٹمنٹ کے لیے) شامل ہیں۔

فی الحال، یہاں سے 1,500 کروڑ روپے تک کی سالانہ برآمدات ہوتی ہے، جس میں گلاس ووڈ آئٹم ، فلاور پوٹ اور کرسمس ڈیکوریشن جیسی مصنوعات اہم ہیں۔ گلاس میوزیم بننے سے غیر ملکی خریداروں اور ڈیزائنرز کے لیے یہ ایک کاروباری مرکز کے طور پر کام کرے گا جس سے برآمدات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

فیروز آباد کے ڈبرئی علاقے میں وکاس بھون کے قریب 25,700 مربع میٹر کی ایک وسیع جگہ پر 47.47 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا میوزیم جدید ترین سہولیات سے آراستہ ہوگا۔ اس میں ایک عظیم الشان 500 نشستوں والا آڈیٹوریم اور 150 نشستوں والا اوپن ایئر تھیئٹر، ایک واچ ٹاور اور آرٹ گیلری ، جہاں شیشے کے جادوئی فن پاروں کی نمائش شامل ہوگی۔ اس میں ایک ملٹی پرپز ہال، کیفے ٹیریااور سیاحتی معلوماتی مرکز بھی شامل ہوگا، جو سیاحوں کو عالمی معیار کا تجربہ فراہم کرے گا۔

شیشے کی صنعت کو فروغ ملے گا اور برآمدات میں اضافہ ہوگا

گلاس میوزیم کے حوالے سے انڈسٹری میں زبردست جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ آل انڈیا گلاس مینوفیکچررز فیڈریشن کے نائب صدر اور یوپی گلاس مینوفیکچرنگ سنڈیکیٹ کے جنرل سکریٹری مکیش کمار بنسل نے اس اقدام کی تعریف کی اور کہا کہ یوگی حکومت کی یہ کوشش فیروز آباد کی شیشہ صنعت کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگی۔ اس سے صنعت کو ایک نئی زندگی ملے گی اور ہماری برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اب تک، ہمارے پاس اپنے فن کی نمائش کے لیے مناسب پلیٹ فارم کی کمی تھی، لیکن یہ میوزیم ہمیں ایک عالمی پلیٹ فارم فراہم کرے گا جہاں دنیا بھر کے خریدار ہماری صلاحیت کو دیکھ سکیں گے۔ اس سے نہ صرف برآمدات کو فروغ ملے گا بلکہ ہزاروں نئے مقامی روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

عالمی سیاحت اور ثقافت کا سنگم

ضلع مجسٹریٹ رمیش رنجن نے کہا کہ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کا وژن فیروز آباد کے روایتی شیشے کے فن کو عالمی سطح پر پہچان دلانا ہے۔ شیشے کا یہ شاندار میوزیم ثقافت اور صنعت کا منفرد سنگم ہو گا، جو دنیا بھر کے سیاحوں کو شیشہ گری کی شاندار تاریخ اور جدید ٹیکنالوجی سے متعارف کرائے گا۔ ہماری کوشش ہے کہ فیروز آباد کو ایک بین الاقوامی سیاحتی مرکز کے طور پر قائم کیا جائے، جو مقامی ٹیلنٹ کو ایک نیا پلیٹ فارم مہیا کرے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande