
واشنگٹن،25اپریل(ہ س)۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران ایک ایسی پیشکش کا ارادہ رکھتا ہے جس کا مقصد واشنگٹن کے مطالبات کو پورا کرنا ہے، جبکہ اسی دوران پاکستان میں مذاکرات کی بحالی کی توقعات ظاہر کی جا رہی ہیں۔جمعے کے روز روئٹرز نیوز ایجنسی کو دیے گئے ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ (ایرانی) ایک پیشکش کریں گے اور ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے، ساتھ ہی انہوں نے اس بات کی بھی نشان دہی کی کہ وہ ابھی تک اس پیشکش کی نوعیت سے واقف نہیں ہیں۔جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ امریکہ کس فریق کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے، تو انہوں نے کہا کہ میں یہ بتانا نہیں چاہتا، لیکن ہم ان لوگوں سے نمٹ رہے ہیں جو اس وقت ذمے دار ہیں۔ تاہم انہوں نے نام بتانے سے گریز کیا۔ٹرمپ نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکی فوج ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے کو اس وقت تک برقرار رکھے گی جب تک کہ کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔ محاصرہ ختم کرنے کی شرائط سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ مجھے اس سوال کا جواب بعد میں دینا ہو گا، مجھے پہلے دیکھنا ہوگا کہ وہ کیا پیش کرتے ہیں۔واضح رہے کہ امریکی صدر اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کسی بھی معاہدے میں ایران کا افزودہ یورینیم سے دست بردار ہونا اور آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دینا لازمی طور پر شامل ہونا چاہیے۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جمعے کی شام اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔وزارت نے ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ عباس عراقچی پاکستانی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے تاکہ خطے کی تازہ ترین صورت حال اور امن و استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ تاہم بیان میں واشنگٹن کے نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ساتھ مذاکرات کا براہ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا۔دوسری جانب ایک پاکستانی ذریعے نے العربیہ/الحدث کو بتایا ہے کہ عباس عراقچی جمعے اور ہفتے کو پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ ذریعے نے مزید کہا کہ اتوار کے روز امریکہ اور ایران کے وفود کے درمیان براہ راست ملاقات ہو سکتی ہے۔العربیہ/الحدث کے ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ پاکستان آنے والے گھنٹوں میں عباس عراقچی کے ساتھ اختلافات کو کم کرنے کے لیے کام کرے گا۔ مزید یہ کہ پاکستان عراقچی کے ساتھ مل کر سب سے پہلے آبنائے ہرمز کے بحران کو حل کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس کے علاوہ عراقچی کی پاکستانی حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات وٹکوف کے اسلام آباد پہنچنے سے قبل ان تک پہنچا دی جائیں گی۔اس سے قبل جمعے کو وائٹ ہاو¿س کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو اسلام آباد میں ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اور یہ وفد ہفتے کی صبح روانہ ہو گا۔کیرولائن لیوٹ نے مزید کہا کہ امریکہ نے گذشتہ چند دنوں میں ایرانی جانب سے کچھ پیش رفت دیکھی ہے اور ہفتے کے آخر میں ہونے والے مذاکرات میں مزید بہتری کی امید ہے۔ انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، جنہوں نے مذاکرات کے پہلے دور میں واشنگٹن کے وفد کی قیادت کی تھی، مذاکرات کے نتیجہ خیز ثابت ہونے کی صورت میں ان میں شامل ہونے کے لیے پاکستان جانے کے لیے تیار ہیں۔یاد رہے کہ پاکستانی دارالحکومت کئی روز سے دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی کا منتظر تھا، جو دو ہفتے قبل شروع ہو کر چند گھنٹوں بعد ہی رک گئے تھے، اگرچہ اے ایف پی کے مطابق امریکہ نے یکطرفہ جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کر دی تھی۔ارنا نیوز ایجنسی کے مطابق، عباس عراقچی اپنے علاقائی دورے کو جاری رکھیں گے جس کے تحت وہ بعد ازاں دوطرفہ مشاورت اور خطے کی موجودہ صورتحال پر بات چیت کے لیے مسقط اور ماسکو بھی جائیں گے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan