
تہران،25اپریل(ہ س)۔گزشتہ چند گھنٹوں میں سوشل میڈیا اور بعض میڈیا رپورٹس نے ایران کی سیاسی فضا میں ہلچل پیدا کر دی، جہاں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے، جن میں ان کے مبینہ استعفے کی خبریں بھی شامل تھیں۔دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ملک کی قیادت میں امریکی مذاکرات کے حوالے سے اختلافات کے باعث انہوں نے استعفیٰ دے دیا ہے، تاہم پارلیمنٹ کے میڈیا دفتر نے ان خبروں کی سختی سے تردید کر دی۔
پارلیمنٹ کے میڈیا اور ثقافتی امور کے مرکز کے سربراہ ایمان شمسی نے جمعہ کی شب کہا کہ پھیلائی جانے والی افواہیں صرف رائے عامہ کو متاثر کرنے کے لیے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ قالیباف بدستور اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے انجام دے رہے ہیں اور امریکہ کے ساتھ مذاکراتی ٹیم کی تشکیل میں بھی کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔یہ تردید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے ،جب ایرانی نظام کے اندرونی حلقوں میں اختلافات اور کشمکش سے متعلق رپورٹس سامنے آ رہی تھیں، جن کے باعث امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے فیصلوں میں تاخیر کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔اسرائیلی چینل 12 نے بھی دعویٰ کیا کہ تہران ایک ’گہرے اور سنگین بحران‘سے گزر رہا ہے، جو فیصلوں کے عمل کو متاثر کر رہا ہے۔رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ محمد باقر قالیباف جنہوں نے مبینہ طور پر اسلام آباد میں دو ہفتے قبل ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں امریکہ سے رابطوں میں کردار ادا کیا تھا، وہ پاسداران انقلاب کی مداخلت کے بعد پیچھے ہٹ گئے۔ان دعوو¿ں میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ اندرونی طور پر انہیں اس کوشش پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ جوہری پروگرام کو مذاکرات میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جسے بعض حلقے’ریڈ لائن‘ قرار دیتے ہیں۔یہ تمام قیاس آرائیاں اس وقت تیزی سے پھیلیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اندر سخت گیر اور معتدل حلقوں کے درمیان اختلافات کا ذکر کیا، جس کے باعث مذاکراتی عمل متاثر ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔تاہم ایرانی صدر مسعود پزشکیان، محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت اعلیٰ حکام نے ان تمام دعوو¿ں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک میں کسی قسم کی تقسیم موجود نہیں اور حکومت و ریاست مکمل طور پر متحد ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan