آر ٹی سی ہڑتال کا سلسلہ جاری ، 90 فیصد بسیں ڈپوز تک محدود
حیدرآباد ، 24 اپریل (ہ س) ۔ ریاست تلنگانہ میں آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال دوسرے دن میں داخل ہوگئی ہے۔ شہر حیدرآباد کے بشمول اضلاع میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ عوامی ٹرانسپورٹ خدمات مکمل طور پر مفلوج ہوکر رہ گئی ہے جس کے بعد طلبہ
آر ٹی سی ہڑتال کا تسلسل جاری ، 90 فیصد بسیں ڈپوز تک محدود


حیدرآباد ، 24 اپریل (ہ س) ۔

ریاست تلنگانہ میں آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال دوسرے دن میں داخل ہوگئی ہے۔ شہر حیدرآباد کے بشمول اضلاع میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ عوامی ٹرانسپورٹ خدمات مکمل طور پر مفلوج ہوکر رہ گئی ہے جس کے بعد طلبہ ، ملازمین ، مزدور، چھوٹے تاجر اور دیگر طبقات بری طرح متاثر ہوگئے۔ گریٹر حیدرآباد کے تقریباً 25 آر ٹی سی ڈپوز سے تعلق رکھنے والی 3000 بسوں میں سے 90 فیصد بسیں ڈپوز تک ہی محدود ہوکر رہ گئیں۔ بتایا گیا ہے کہ 450 میں سے تقریباً 400 الیکٹرک بسیں اور 260 کرایہ کی بسوں میں سے 180 بسیں سڑکوں پر اتاری گئی ہیں جبکہ مزید 120 بسیں آؤٹ سورسیس ڈرائیورس کے ذریعہ چلانے کی کوشش کی گئی ۔ ہڑتال سے 10 تا 12 کروڑ روپئے کے نقصان کا تخمینہ لگایا جارہا ہے۔ ہڑتال کے باعث مسافروں کو پرائیویٹ گاڑیوں کا سہارا لینے کیلئے مجبورہونا پڑ رہا ہے، جہاں ان سے من مانی کرایہ وصول کرنے کی شکایتیں مل رہی ہیں۔ مختلف روٹس پر کرایوں میں دوگنا سے بھی زیادہ اضافہ کردیا گیا ہے۔ اسی دوران اولا , اوبر اور راپیڈو جیسی کیابس سرویسز نے بھی کرایوں میں غیرمعمولی اضافہ کردیا ہے۔ مہدی پٹنم سے سکندرآباد تک عام طور پر150 روپئے لینے والی سرویسزنے کرایہ بڑھاکر350 تک کردیا ہے جبکہ بائیک اور کیابس سرویسز کے کرایوں میں بھی دوگنا اضافہ ہوگیا۔ دوسری جانب سے مسافروں کی بڑی تعداد نے میٹرو اورایم ایم ٹی ایس ٹرینوں کا رخ کیا جس کے باعث یہ خدمات بھی شدید بھیڑ کا شکار ہوگئی ہیں۔ حیدرآباد میٹروریل لمٹیڈ نے صورتحال کو سنبھالنے کیلئے 56 اضافی ٹرینیں چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ عام دنوں میں جہاں تقریباً 4.8 لاکھ مسافر میٹرو سے سفر کرتے تھے، وہیں آر ٹی سی ہڑتال کے بعد یہ تعداد بڑھ کر 5 لاکھ سے تجاوز کرگئی ۔ مجموعی طور پر آر ٹی سی ہڑتال نے شہر کے ٹرانسپورٹ نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کے نتیجہ میں نہ صرف عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ مختلف شعبہ حیات سے وابستہ افراد کی روز مرہ سرگرمیاں بھی متاثر ہورہی ہیں۔

۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande