
پٹنہ، 24 اپریل(ہ س)۔محکمہ سماجی فلاح کے تحت آنے والے آئی سی ڈی ایس ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے پٹنہ کے گیان بھون میں پوشن پکھواڑا-2026 کا اختتام ہوا۔ اس موقع پر منعقدہ ریاستی سطح کے ورکشاپ میں بطور مہمانِ خصوصی شریک نائب وزیر اعلیٰ و سماجی فلاح کے وزیر بجندر یادو نے معذوری پروٹوکول اور معذوری جانچ شیڈول (ڈی ایس ایس) کا باضابطہ افتتاح کیا۔محکمہ کی سکریٹری بندنا پریئشی نے بتایا کہ آئندہ دو مہینوں کے اندر آنگن باڑی سیوکاؤں اور معاونین کو اینڈرائیڈ موبائل فون فراہم کیے جائیں گے۔ وزیر نے کہا کہ ڈی ایس ایس ایک سادہ چیک لسٹ ہے، جس کی مدد سے آنگن باڑی کارکنان 0 سے 6 سال کے بچوں میں موٹر ڈیولپمنٹ، زبان و رابطہ، ذہنی نشوونما، سماجی و جذباتی رویہ، بصارت اور سماعت جیسے چھ شعبوں میں ترقیاتی تاخیر کو آسانی سے پہچان سکیں گی۔ اس کے ساتھ آنگن باڑی، آشا/اے این ایم اور آر بی ایس کے ٹیم کے ذریعے ضلع ابتدائی مداخلتی مرکز (ڈی ای آئی سی) تک مضبوط ریفرل نظام قائم کیا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے ’’ہمارے بچے، ہمارا خاندان‘‘کے نام سے واٹس ایپ کمیونٹی چینل بھی شروع کیا گیا، جس کے ذریعے غذائیت، دیکھ بھال، ابتدائی تعلیم اور دماغی نشوونما سے متعلق معلومات براہ راست خاندانوں تک پہنچائی جائیں گی۔ نائب وزیر اعلیٰ نے ابتدائی بچپن کی دیکھ بھال و تعلیم (ای سی سی ای) کے تحت 6 سال مکمل کرنے والے بچوں کو ودیارمبھ سرٹیفکیٹ بھی تقسیم کیے اور آنگن باڑی کارکنان کی خدمات کو سراہا۔اس موقع پر سکریٹری بندنا پریئشی نے بتایا کہ پوشن پکھواڑا-2026 کے دوران پورے بہار میں تقریباً 71 لاکھ سے زائد سرگرمیاں منعقد کی گئیں۔ پوشن ماہ-2025 میں شاندار کارکردگی کے بعد بہار نے ملک میں پہلا مقام حاصل کیا تھا اور اسی تسلسل میں 2026 میں بھی ریاست نے قومی سطح پر اول مقام حاصل کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سائنسی مطالعات کے مطابق بچے کی زندگی کے پہلے 6 سال جسمانی، ذہنی، جذباتی اور سماجی ترقی کی مضبوط بنیاد ہوتے ہیں اور اس عرصے میں تقریباً 85 فیصد دماغی نشوونما مکمل ہو جاتی ہے۔ اگر اس دوران مناسب غذائیت، رابطہ، کھیل پر مبنی تعلیم اور بروقت مداخلت نہ ہو تو بچے کے مستقبل پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔اس مہم کے دوران ریاست میں پانچ اہم شعبوں پر توجہ دی گئی، جن میں ماں اور بچے کی غذائیت، 0-3 سال کے بچوں کی ابتدائی دماغی نشوونما، 3-6 سال کے بچوں کے لیے کھیل پر مبنی تعلیم، اسکرین ٹائم میں کمی اور آنگن باڑی مراکز کو مضبوط بنانا شامل ہیں۔پوری ریاست میں والدین، آنگن باڑی کارکنان اور کمیونٹی کو بیدار کرنے کے لیے وسیع مہم چلائی گئی، جس میں آنگن باڑی مراکز، وی ایچ ایس این ڈی سیشنز، گھر گھر دورے، پوشن ریلیاں، گود بھرائی، اناپراشن اور ماؤں کی کمیٹی میٹنگ شامل تھیں۔بہار میں غذائی قلت کی صورتحال میں مسلسل بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ عمر کے لحاظ سے بونے پن (اسٹنٹنگ) کی شرح این ایف ایس ایچ-5 میں 42.9 فیصد تھی جو کم ہو کر مارچ 2026 میں 40.60 فیصد ہو گئی ہے۔ اسی طرح کم وزن (انڈر ویٹ) کی شرح 41 فیصد سے گھٹ کر 19.2 فیصد اور ویسٹنگ (قد کے لحاظ سے کم وزن) 22.9 فیصد سے کم ہو کر 7.7 فیصد رہ گئی ہے۔اس پروگرام میں آئی سی ڈی ایس کے ڈائریکٹر، محکمہ سماجی فلاح کے اعلیٰ افسران، ضلع پروگرام افسران، بال وکاس پروجیکٹ افسران اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے بڑی تعداد میں موجود تھے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan