
ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں شفاف اور منصفانہ تحقیق کا کیا مطالبہ نئی دہلی،24اپریل(ہ س)۔
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے۔ پی۔ سی۔ آر) مہاراشٹر نے ٹی سی ایس ناسک واقعہ سے متعلق اپنی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ ممبئی پریس کلب میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران جاری کی۔
واضح رہے کہ یہ رپورٹ 4/اپریل ?2026 کو کی گئی زمینی تحقیق پر مبنی ہے، اس دوران تحقیقاتی ٹیم نے متاثرہ خاندانوں، وکلاءاور مقامی رہائشیوں سے بھی ملاقاتیں کیں، ایف آئی آرز کا جائزہ لیا اور عدالتی کارروائیوں کا مشاہدہ کیا تاکہ زمینی حقائق کو درست طور پر سمجھا جا سکے۔پریس کانفرنس کی نظامت اے پی سی آر مہاراشٹر کے جنرل سیکریٹری شاکر شیخ نے کی۔ انہوں نے کہا کہ ناسک، جو ایک مذہبی اہمیت کا حامل شہر سمجھا جاتا ہے، گزشتہ ایک ماہ سے اس معاملے کے باعث خبروں میں چھایا ہوا ہے۔شاکر شیخ کے مطابق، اس تنازعہ کا آغاز فروری میں اس وقت ہوا جب ایک ایف آئی آر درج کی گئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ ٹی سی ایس میں کام کرنے والی مسلم خواتین ملازمین اپنے مذہبی فرائض، بشمول روزہ رکھنے، کو دفتر میں ادا کر رہی تھیں۔بمبئی کیتھولک سبھا کے ڈولفی ڈی سوزا نے اس معاملے کو وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بیانیے اتفاقی نہیں ہوتے بلکہ کارپوریٹ لو جہاد جیسے تصورات کو فروغ دے کر خوف کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد اقلیتی ملازمین کو کارپوریٹ شعبے سے باہر دھکیلنا ہے۔
پی یو سی ایل کی سیکریٹری سندھیہ گوکھلے نے معاشی بائیکاٹ کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جو رجحان پہلے غیر رسمی شعبوں تک محدود تھا، اب کارپوریٹ دنیا تک پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر خواتین پر اس کے منفی اثرات کی نشاندہی کی اور پولیس کی غیر جانبداری پر سوال اٹھاتے ہوئے مجوزہ تبدیلی? مذہب مخالف قوانین پر بھی خدشات ظاہر کیے۔اے پی سی آر کے قومی سیکریٹری ندیم خان نے اس کیس میں تبدیلی مذہب کے منظم نیٹ ورک کے دعوو¿ں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزامات بنیادی جانچ پر پورے نہیں اترتے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کسی فرد کو مذہبی عبادات جیسے روزہ رکھنے پر مجبور کرنا عقلاً ممکن نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایف آئی آرز متاثرین یا ان کے اہل خانہ کی جانب سے نہیں بلکہ تیسرے فریق کی طرف سے درج کرائی گئیں۔ انہوں نے ایک ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
سیٹیزنز فار جسٹس اینڈ پیس کی سیکریٹری تیستا سیتلواڈ نے سوال اٹھایا کہ جنسی ہراسانی جیسے سنجیدہ معاملے کو مذہبی رنگ کیوں دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہراسانی کا تعلق طاقت کے غلط استعمال سے ہے، نہ کہ مذہب سے، اور اداروں کو چاہیے کہ وہ POSH (پریوینشن آف سیکسول ہراسمنٹ) قوانین پر سختی سے عمل کریں۔ انہوں نے ندا خان کی کردار کشی پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ان کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کا ذمہ دار کون ہوگا۔ انہوں نے میڈیا کے بعض حلقوں پر بھی معاشرتی تقسیم کو بڑھانے کا الزام عائد کیا۔سماجی کارکن نیرنجن تکلے نے عوامی بیانیے میں موجود تضادات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ ندا خان کو ابتدا میں ماسٹر مائنڈ اور ایچ آر ہیڈ بتایا گیا، جبکہ بعد میں کمپنی نے واضح کیا کہ وہ ایک ٹیلی کالر تھیں اور کسی انتظامی اختیار کی حامل نہیں تھیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹی سی ایس میں شکایات درج کرانے کا باقاعدہ نظام موجود ہے، مگر اس کے باوجود کوئی رسمی شکایت درج نہیں کرائی گئی۔ انہوں نے شفاف تحقیقات اور تمام متعلقہ افراد کے نارکو تجزیہ ٹیسٹ کا مطالبہ کیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ متعدد ایف آئی آرز میں کام کی جگہ پر بدعنوانی کے الزامات شامل ہیں، تاہم اس مرحلے پر کسی منظم تبدیلی مذہب کی سرگرمی کا کوئی واضح ثبوت موجود نہیں ہے۔ رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ سرکاری ریکارڈ اور عوامی سطح پر گردش کرنے والی معلومات میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔اے پی سی آر نے اس معاملے میں غیر جانبدارانہ اور منصفانہ تحقیقات، قانونی تقاضوں کے احترام، اور میڈیا و عوامی بیانیے میں ذمہ داری اور احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais