
نئی دہلی،24اپریل(ہ س)۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام امیر خسرو یادگاری خطبے کا انعقاد کیا گیا۔ استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمٰن قدوائی نے کہا کہ یہ خطبہ ایک زمانے سے ہوتا آرہا ہے اور ہر بار خسرو سے متعلق ہی گفتگو ہوتی ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تشنگی ابھی باقی ہے۔ اس کا سبب ان کی ہمہ پہلو شخصیت ہے جس کے تمام پہلو ابھی تک واضح نہیں ہوسکے ہیں۔ خطبے کی صدارت معروف ادیب و نقاد پروفیسر انور پاشا نے کی۔ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ امیر خسرو ایک جامع کمالات شخصیت کا نام ہے۔ وہ شاعری موسیقی اور دیگر علوم میں غیر معمولی صلاحیت کے مالک تھے۔ ایرانی شعرا نے جس شاعر کے فنی امتیاز کو تسلیم کیا ہے وہ امیر خسرو ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ امیر خسرو نے سات بادشاہوں کا دور دیکھا اور درباری لحاظ سے بھی فعال رہے لیکن حیرت ہوتی ہے کہ انھیں پانچ دیوان دس مثنویاں اور نثر میں بھی تین کتابیں لکھنے کی مہلت کیونکر میسر آئی جوکمیت اور کیفیت دونوں لحاظ سے غیر معمولی ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے کہا کہ غالب انسٹی ٹیوٹ اردو کا ایک سرگرم ادارہ ہے جو ہر سال امیر خسرو یادگاری خطبے کا اہتمام کرتا ہے۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اس خطبے کے لیے کسی علمی شخصیت کی خدمات حاصل کی جائیں۔ پروفیسراخلاق آہن کو دعوت دینے کا ایک مقصد یہ ہے کہ امیر خسرو پر گفتگو کے لیے اردو کی کلاسیکی روایت کے ساتھ فارسی سے واقف ہونا بھی ضروری ہے۔پروفیسر اخلاق آہن اردو فارسی شعریات سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں لہٰذا ان کی گفتگو اس تعلق سے بہت بامعنی ثابت ہوگی۔پروفیسر اخلاق آہن نے ’امیر خسرو اور ہندستانی تہذیب و ثقافت‘ کے عنوان سے خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب میں خسرو کی ادبی میراث پر نظر کرتا ہوں تو میرے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ان کے کس کام کو فوقیت دوں۔ انھوں نے ایک طرف نثر میں ’اعجاز خسروی‘ ’خزائن الفتوح‘ اور ’افضل الفوائد‘ جیسی بے مثال تصنیف چھوڑیں اور دوسری طرف ’نہ سپہر‘ جیسی لا زوال مثنوی سے یہاں کی شعری روایت کو عروج بخشا۔ ’نہ سپہر‘ ایسی مثنوی ہے جس کے بارے میں اپنی ثروت مند روایت کا احساس ہونے کے باوجود میں کہتا ہوں کہ ایسی مثنوی ہندستان کی کسی زبان میں نہیں لکھی گئی۔ اس مثنوی کا بھی تیسرا سپہر جو ہمارے ملک ہندستان سے متعلق ہے، بطور خاص متاثر کرتا ہے۔ ہمیں آئندہ نسل کی تربیت اس انداز سے کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ عصری تقاضوں کے ساتھ اپنی علمی روایت سے بھی واقف ہو۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais