ڈیموکریٹ شیلا چرفیلس-میک کارمک کا ایوانِ نمائندگان سے استعفیٰ
واشنگٹن، 22 اپریل (ہ س)۔ امریکہ میں ایران جنگ سے پیدا ہونے والی ہلچل کے درمیان ڈیموکریٹ رہنما شیلا چرفیلس-میک کارمک نے کانگریس کے ایوانِ نمائندگان، سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا استعفیٰ ایک تحقیقات کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں یہ پایا گیا کہ انہوں نے
ڈیموکریٹ شیلا چرفیلس-میک کارمک کا ایوانِ نمائندگان سے استعفیٰ


واشنگٹن، 22 اپریل (ہ س)۔ امریکہ میں ایران جنگ سے پیدا ہونے والی ہلچل کے درمیان ڈیموکریٹ رہنما شیلا چرفیلس-میک کارمک نے کانگریس کے ایوانِ نمائندگان، سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا استعفیٰ ایک تحقیقات کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں یہ پایا گیا کہ انہوں نے 20 سے زائد اخلاقی ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان خلاف ورزیوں میں انتخابی مہم کے لیے فنڈ جمع کرنے سے متعلق قوانین کو توڑنا بھی شامل ہے۔

چرفیلس-میک کارمک پر سنگین الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طریقے سے امریکہ کی آفات سے متعلق امدادی رقم کو اپنی انتخابی مہم میں استعمال کیا۔ اس کے علاوہ اس رقم سے مہنگی اشیاء بھی خریدی گئیں، جن میں 109,000 ڈالر مالیت کی تین قیراط پیلے ہیرے کی انگوٹھی بھی شامل ہے۔

امریکی آن لائن نیوز پلیٹ فارم ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق، وہ ایک ہفتے کے اندر استعفیٰ دینے والی کانگریس کی تیسری رکن بن گئی ہیں، جنہوں نے بدعنوانی کے الزامات اور ایوانِ نمائندگان سے ممکنہ اخراج کے لیے ہونے والی ووٹنگ سے قبل ہی استعفیٰ دے دیا۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور خود کو بے گناہ ثابت کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے اپنے استعفے کا اعلان کیا اور کانگریس کی تحقیقات کو انتقامی کارروائی قرار دیا۔ چرفیلس-میک کارمک 2022 میں کانگریس کے لیے منتخب ہوئی تھیں۔

اس معاملے پر انہیں اپنے ہی ہاؤس ڈیموکریٹس کے ساتھیوں کی مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ ان سے پہلے استعفیٰ دینے والوں میں نمائندہ ایرک سویلویل اور ٹونی گونزالیس شامل ہیں۔

اپنے بیان میں چرفیلس-میک کارمک نے کہا: ان سیاسی کھیلوں میں الجھنے کے بجائے میں نے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ میں اپنا وقت فلوریڈا کے 20ویں ضلع میں اپنے ہمسایوں کے لیے لڑنے میں صرف کر سکوں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande