پاکستانی فوج نے کوئٹہ سے میڈیکل کی طالبہ کو اغوا کر لیا، ہاسٹل کے سامنے احتجاج
اسلام آباد، 22 اپریل (ہ س)۔ پاکستانی فوج نے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے بولان میڈیکل کالج کے گرلز ہاسٹل پر چھاپہ مار کر طالبہ خدیجہ بلوچ کو اغوا کر لیا۔ اس بات کا علم ہوتے ہی باقی طلباء نے ہاسٹل کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے خدیجہ کی فوری اور محف
پاکستانی فوج نے کوئٹہ سے میڈیکل کی طالبہ کو اغوا کر لیا، ہاسٹل کے سامنے احتجاج


اسلام آباد، 22 اپریل (ہ س)۔

پاکستانی فوج نے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے بولان میڈیکل کالج کے گرلز ہاسٹل پر چھاپہ مار کر طالبہ خدیجہ بلوچ کو اغوا کر لیا۔ اس بات کا علم ہوتے ہی باقی طلباء نے ہاسٹل کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے خدیجہ کی فوری اور محفوظ رہائی کا مطالبہ کیا۔

دی بلوچستان پوسٹ کے مطابق خدیجہ کو فرنٹیئر کور (ایف سی)، ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) اور کاو¿نٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے افسران نے ہاسٹل سے حراست میں لیا تھا۔ خدیجہ بلوچ ساتویں سمسٹر کی بیچلر آف سائنس نرسنگ کی طالبہ اور ضلع کیچ کے علاقے ہیرونک کی رہائشی ہے۔ رواں ماہ کراچی کے علاقے نوال میں رہنے والی آواران برادری سے تعلق رکھنے والی حسینہ بلوچ کو بھی اغوا کیا گیا تھا۔

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاج آج 6,141ویں روز میں داخل ہوگیا۔ مستونگ ضلع کے کردگاپ کے علاقے لادی دشت میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں قتل ہونے والے راج دوت سملانی، امان اللہ سملانی اور عرفان محمد حسنی کے اہل خانہ نے احتجاج درج کرایا۔

اہل خانہ کے مطابق، تینوں نوجوانوں کو پاکستانی فوج نے 16 اپریل کو تحصیل کردگاپ کے علاقے لادی دشت سے حراست میں لیا تھا اور بعد میں قتل کر دیا تھا۔ وی بی ایم پی کے صدر نصراللہ بلوچ اور جنرل سیکریٹری حوراں بلوچ کی کوششوں کے بعد تینوں نوجوانوں کی لاشیں ان کے اہل خانہ کو واپس کر دی گئیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande