راج ناتھ سنگھ نے جرمن صنعت کو ’آتم نر بھر بھارت‘ کے تحت مل کر کام کرنے کی دعوت دی
- ہندوستان اور جرمنی کے درمیان دیرینہ ثقافتی اور فکری تعلقات پر زور نئی دہلی،22 اپریل (ہ س)۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جرمن صنعت کو ا±بھرتے ہوئے سیکورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے آتم نربھر بھارت پہل کے تحت مل کر کام کرنے کی دعوت دی۔ وزیر دفاع نے بر
Defense-Minister-Berlin-German


- ہندوستان اور جرمنی کے درمیان دیرینہ ثقافتی اور فکری تعلقات پر زور

نئی دہلی،22 اپریل (ہ س)۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جرمن صنعت کو ا±بھرتے ہوئے سیکورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے آتم نربھر بھارت پہل کے تحت مل کر کام کرنے کی دعوت دی۔ وزیر دفاع نے برلن میں ہمبولٹ یونیورسٹی کے کیمپس میں گرودیو رابندر ناتھ ٹیگور کو گلہائے عقیدت نذر کئے اور ہندوستان اور جرمنی کے درمیان دیرینہ ثقافتی اور فکری تعلقات پر زور دیا۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ مغربی ایشیا کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہندوستان کی حکمت عملی عالمی بحرانوں کا جواب دینے کی اس کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔

وزیر دفاع نے برلن میں جرمن ممبران پارلیمنٹ سے کہا کہ آتم نربھربھارت صرف ایک سرکاری خریداری کا پروگرام نہیں ہے بلکہ مل کر ترقی کرنے کی دعوت ہے۔ انہوں نے ہندوستان اور جرمنی کے دفاعی صنعتی ماحولیاتی نظام کے درمیان زیادہ تعاون کی پرزور وکالت کی۔ یورپی ملک کے اپنے تین روزہ دورے کے پہلے روز جرمن پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع اور سلامتی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے زور دیا کہ آج دنیا کو نئے سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔ ٹیکنالوجی میں ہونے والی تبدیلیوں نے صورتحال کو پیچیدہ اور باہم مربوط بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ بدلتے ہوئے ماحول سے ہم آہنگ ہونے کی خواہش کے ساتھ نیا طریقہ تلاش کیا جائے۔

وزیر دفاع نے کہا، ”ہم جرمن صنعتوں کی پہلے سے بنی طاقت کو پہچانتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ، ہندوستان میں ہماری اسٹارٹ اپس اور ابھرتی ہوئی نجی کمپنیاں تیزی سے ہماری بڑی اور قائم شدہ دفاعی کمپنیوں کی صلاحیتوں کو بڑھا رہی ہیں اور ان کی تکمیل کر رہی ہیں۔ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جہاں ہندوستان اور جرمنی ایک دوسرے کے تکمیل کرتے ہیں اور ہماری شراکت داری مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔“ آج کے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے راج ناتھ سنگھ نے مل کر جواب دینے اور قابل اعتماد اسٹریٹجک شراکت داری کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہاکہہم یورپی یونین کے بارے میں خیالات میں واضح ہم آہنگی دیکھ رہے ہیں، جس کی عکاسی ہندوستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی رفتار سے ہوتی ہے، جس میں انڈیا -یورپی یونین دفاعی اور اسٹریٹجک پارٹنرشپ بھی شامل ہے۔

وزیر دفاع نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہندوستان اور جرمنی نہ صرف اسٹریٹجک شراکت دار ہیں بلکہ آج عالمی بات چیت کی تشکیل میں اہم آوازیں بھی ہیں۔ جب اس دور کی تاریخ لکھی جائے گی،تب ہندوستان-جرمنی کی شراکت داری سفارت کاری کی ایک مثال کے طور پر کھڑی ہوگی جو بحرانوں کے جواب میں نہیں، بلکہ دو پختہ جمہوریتوں کے مضبوط عزم کے تحت اس راستے پر چلنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی عدم استحکام کو اب علاقائی مسئلہ کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتائج عالمی ہیں اور توانائی کی سلامتی، خوراک کی حفاظت اور عالمی اقتصادی استحکام پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان جیسا ترقی پذیر ملک اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ مغربی ایشیائی خطے پر منحصر ہے۔ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کوئی دور کی بات نہیں ہے، یہ ہماری سکیورٹی اور اقتصادی استحکام کو براہ راست متاثر کرنے والی ایک تلخ حقیقت ہے ۔وزیر دفاع نے وضاحت کی کہ ہندوستان نے ان چیلنجوں اور ان کے براہ راست اثرات کی روشنی میں حکمت عملی اپنائی ہے۔ انہوں نے ارکان پارلیمنٹ کو بتایا کہ مغربی ایشیا پر وزراءکا ایک گروپ مسلسل بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے اور اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بروقت اقدامات تجویز کر رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande