
حیدرآباد ، 22 اپریل (ہ س) ۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے آج کالیشورم پروجیکٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ جسٹس پی سی گھوش کمیشن کی رپورٹ پرحکمِ التوا (اسٹے) جاری کردیا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے سے سابق وزیراعلیٰ کے چندرشیکھر راؤ (کے سی آر) اور سابق وزیرٹی ہریش راؤ کو بڑی راحت ملی ہے۔ چیف جسٹس اپریش کمارسنگھ اورجسٹس جی ایم محی الدین پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اس معاملے پر طویل سماعت کے بعد اپنا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے واضح ہدایت دی کہ کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر پٹیشنرز کے خلاف کوئی بھی تادیبی یا تعزیری کارروائی نہ کی جائے۔ ہائی کورٹ نے نوٹ کیا کہ رپورٹ کی تیاری اوراسے جمع کرانے میں طریقہ کارکی خامیاں موجود ہیں۔ عدالت نے اس بات پربھی اعتراض کیا کہ رپورٹ اسمبلی میں پیش کرنے سے پہلے ہی عام کردی گئی۔ یہ درخواستیں کے سی آر، ہریش راؤ اورسینئرآئی اے ایس افسران سمیتا سبھروال اور ایس کے جوشی کی جانب سے دائر کی گئی تھیں، جنہوں نے کمیشن کی تشکیل اوراس کی رپورٹ کو چیلنج کیا تھا۔ عدالت کا یہ حکم تمام پٹیشنرزبشمول بیوروکریٹس سمیتا سبھروال اور ایس کے جوشی پرلاگوہوگا۔ اگرچہ عدالت نے رپورٹ پر اسٹے دے دیا ہے، تاہم مارچ 2024 میں جاری کردہ اس سرکاری آرڈر کی قانونی حیثیت کو برقراررکھا ہے جس کے تحت یہ کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔ کالیشورم پروجیکٹ کے حوالے سے جاری سیاسی کھینچا تانی کے درمیان ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ بی آرایس قیادت کے لیے ایک بڑی اخلاقی اورقانونی فتح قراردیا جارہا ہے، کیونکہ حکومت اس رپورٹ کی بنیاد پر سابقہ دورِ حکومت کے اہم عہدیداروں کے خلاف شکنجہ کسنے کی تیاری کر رہی تھی۔ عدالت کے اس حکم کے بعد اب گیند دوبارہ حکومت کے پالے میں ہے کہ وہ اس تیکنیکی اور قانونی رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے کیا اگلا قدم اٹھاتی ہے۔
۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق