سرکاری رہائش گاہ چھوڑکر ہوٹلوں میں پولیس مشاہدین نے کیوں قیام کیا؟،ترنمول کانگریس کاانتخابی کمیشن پر الزام
کولکاتا، 22اپریل (ہ س)۔ مغربی بنگال کی سیاست میں انتخابات کو لے کر تنازعات اور الزام تراشی کا دور تیز ہوگیا ہے۔ ترنمول کانگریس نے ایک بار پھر انتخابی کمیشن پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ پارٹی نے سوال کیا ہے کہ پولیس مشاہدین سرکاری رہائش گاہ میں قی
EC-Under-Fire-from-TMC


کولکاتا، 22اپریل (ہ س)۔ مغربی بنگال کی سیاست میں انتخابات کو لے کر تنازعات اور الزام تراشی کا دور تیز ہوگیا ہے۔ ترنمول کانگریس نے ایک بار پھر انتخابی کمیشن پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ پارٹی نے سوال کیا ہے کہ پولیس مشاہدین سرکاری رہائش گاہ میں قیام کرنے کے بجائے ساگریکا ہوٹل کے کمرے میں کیوں قیام پذیر ہیں۔

بدھ کو منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں ترنمول کانگریس کی سینئر لیڈر چندریما بھٹاچاریہ اور بیلگھاٹہ سے پارٹی کے امیدوار کنال گھوش نے انتخابی کمیشن کے کردار پر سخت حملہ کیا۔ گھوش نے ایک واٹس ایپ چیٹ اور ویڈیو جاری کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ڈائمنڈ ہاربر پولیس کے آبزرور (مشاہد) کو علی پور میں سرکاری میس میں قیام کرنے کا بندوبست کیا گیا تھا، لیکن وہ ساگریکا ہوٹل کے کمرہ نمبر 208 میں مقیم ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی ہوٹل میں مگراہاٹ (مغربی) سیٹ سے بی جے پی امیدوار گورا گھوش اور ڈائمنڈ ہاربر سے بی جے پی امیدوار دیپک ہلدر نے اپنے ایجنٹوں کے ساتھ میٹنگ کر چکے ہیں۔ ترنمول کا الزام ہے کہ پارٹی کے کئی سرگرم لیڈروں کے ناآبزرور کو سونپے گئے تاکہ انہیں الیکشن سے پہلے مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جا سکے۔ یہ ملاقات پیر کی شب خفیہ طور پر ہوئی تھی ۔

کنال گھوش نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ مختلف ریاستوں سے آئے کچھ مشاہدین بھی ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر کے خلاف غلط ہدایات دینے کی شکایت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماچل پردیش کے آئی اے ایس افسر سی پلراسو کو اس مسئلہ پر سوالات اٹھانے پرمشاہدین کے گروپ سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ترنمول کانگریس کے سینئر لیڈر ڈیرک اوبرائن نے بھی چیف الیکشن کمشنر سے اس معاملے کی شکایت کی ہے۔

وہیں، چندریما بھٹاچاریہ نے الیکشن کمیشن پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں، کمیشن ”اپنے دانت اور ناخن دکھا رہا ہے“ اور اس کےمشاہدین مکمل طور پر جانبدارانہ رویہ اپنا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ مشاہدین بی جے پی کے حق میں ”دلداس “ کی طرح کام کر رہے ہیں اور جو لوگ اس کی مخالفت کررہے ہیں، ان کی تذلیل کی جا رہی ہے اور انہیں ہٹایا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سڑکوں پر فوج اور بکتر بند گاڑیاں اتار دی گئی ہیں اور ایسا لگ رہا ہے جیسے صرف ٹینک اور لڑاکا طیارے اتارنا ہی باقی رہ گیا ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو شخص ایک خاتون وزیر اعلیٰ کا احترام نہیں کر سکتا ،وہ خواتین کی عزت کی بات کرتا ہے اور مالی امداد کا وعدہ کرتا ہے۔ انہوں نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ ایسے وعدوں سے گمراہ نہ ہوں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande