دہلی ہائی کورٹ نے ایل پی جی کی قلت پر عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کیا
نئی دہلی، 22 اپریل (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے ایل پی جی گیس سلنڈر کی قلت سے متعلق کیس کی سماعت سے انکار کر دیا ہے۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ یہ معاملہ مغربی ایشیا میں جاری بحران سے متعلق ہے اور حکومت کے دائرہ اختیار میں آ
DL-HC-LPG-shortage-PIL


نئی دہلی، 22 اپریل (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے ایل پی جی گیس سلنڈر کی قلت سے متعلق کیس کی سماعت سے انکار کر دیا ہے۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ یہ معاملہ مغربی ایشیا میں جاری بحران سے متعلق ہے اور حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ عدالت اس معاملے پر کوئی حکم جاری نہیں کر سکتی۔

سماعت کے دوران عدالت نے سوال کیا کہ کیا ہم حکومت چلا رہے ہیں، عدالت اس معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ عدالت نے تذکرہ کیا کہ حکومت پہلے ہی ضروری اشیا ایکٹ بنا چکی ہے۔

ایسے معاملات ایگزیکٹو کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ حکومت اور تیل کمپنیاں وسائل پر منحصر ہیں۔ تب درخواست گزار نے استدلال کیا کہ حکومت ایل پی جی کی برآمدات پر پابندی کے لیے رہنما خطوط جاری کرے۔ عدالت نے پھر پوچھا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، عدالت ملک کی اقتصادی پالیسی کا تعین نہیں کر سکتی، کیا عدالت فیصلہ کرے گی کہ کیا درآمد کرنا چاہیے اور کیا نہیں؟

عدالت نے کہاکہ درخواست میں ایل پی جی کی برآمدات کا کوئی ٹھوس ذکر نہیں کیا گیا۔ درخواست میں کہا گیا کہ گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی عدم دستیابی کی وجہ سے لاکھوں لوگ پریشانی کا شکار ہیں۔ ایل پی جی سلنڈر کالا بازاری میں پانچ ہزار روپے میں فروخت ہو رہے تھے۔ حکومت ایل پی جی سلنڈر کی بلیک مارکیٹنگ روکنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ عدالت نے پھر کہا کہ سلنڈروں کی مناسب فراہمی کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

ہندوستھان سماچار

-------

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande