سپریم کورٹ کی سرزنش کے بعد بی جے پی نے ممتا سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا
نئی دہلی،22 اپریل (ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو کوئلہ گھوٹالے کی تحقیقات کرنے والے افسران کو روکنے کے معاملے میں سپریم کورٹ کی سخت سرزنش کے بعد استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ بی جے پی کے قومی ترجمان
BJP-TMC-SUPREME-COURT-


نئی دہلی،22 اپریل (ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو کوئلہ گھوٹالے کی تحقیقات کرنے والے افسران کو روکنے کے معاملے میں سپریم کورٹ کی سخت سرزنش کے بعد استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ بی جے پی کے قومی ترجمان گورو بھاٹیہ نے بدھ کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ مغربی بنگال میں جنگل راج اور لاقانونیت پھیلی ہوئی ہے اور امن و امان مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ عدالت کے تبصرے کے بعد ممتا کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ وزیر اعلی نے جس طرح عدالتی افسران کو یرغمال بنایا اور انہیں کام کرنے سے روکا، عدالت نے واضح طور پر کہا کہ ریاست میں اس طرح کی انتشار کی صورتحال کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

بھاٹیہ نے کہا کہ مغربی بنگال میں نظم ونسق تباہ ہوگیا ہے، لیکن ممتا خوش ہیں۔ ممتا نے عوام کو دھوکہ دیا ہے۔ ریاست کے عوام پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال میں کل الیکشن ہیں۔ اس بار ریاست کے عوام تبدیلی کو ووٹ دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست سندیشکھالی میں جس طرح سے خواتین کا استحصال ہوتا رہاہے، ممتا بنرجی نے اس کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ ریاست میں خواتین غیر محفوظ ہیں۔ مغربی بنگال کے عوام اس بار ترنمول کانگریس کو سبق سکھائیں گے۔

قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے آئی- پیک کے دفتر پر ای ڈی کے چھاپے کے دوران وزیر اعلی بنرجی کی مبینہ مداخلت کی سختی سے سرزنش کرتے ہوئے اسے ”جمہوریت کے لیے خطرہ“ قرار دیا۔ جسٹس پی کے مشرا کی بنچ نے تنازعہ کو ذاتی معاملہ قرار دیا، مرکزی -ریاست کا تنازعہ نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئینی عہدہ رکھنے والا کوئی بھی شخص سسٹم کو چیلنج نہیں کر سکتا۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande