سیز فائر کا اعلان ہونے کے باوجود 100 ڈالر کے قریب پہنچا خام تیل
نئی دہلی، 22 اپریل (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ سیز فائر کو بڑھانے کی ہدایت دینے کے باوجود آج بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت میں تیزی کا رجحان برقرار ہے۔ آج کے کاروبار میں برنٹ کروڈ 100 ڈالر فی بیرل کی سطح کے کافی
علامتی تصویر


نئی دہلی، 22 اپریل (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ سیز فائر کو بڑھانے کی ہدایت دینے کے باوجود آج بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت میں تیزی کا رجحان برقرار ہے۔ آج کے کاروبار میں برنٹ کروڈ 100 ڈالر فی بیرل کی سطح کے کافی قریب پہنچ گیا۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ نے بھی 90 ڈالر فی بیرل کی سطح کو پار کر لیا۔ حالانکہ بعد میں خام تیل کی قیمت میں معمولی گراوٹ بھی درج کی گئی۔

آج برنٹ کروڈ نے تیزی دکھاتے ہوئے 100 ڈالر کے قریب 99.24 ڈالر فی بیرل کی سطح سے کاروبار کی شروعات کی۔ تھوڑی دیر میں ہی یہ اضافے کے ساتھ 99.29 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا۔ ہندوستانی وقت کے مطابق صبح 9.15 بجے تک کا کاروبار ہونے کے بعد برنٹ کروڈ 98.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر کاروبار کر رہا تھا۔

اسی طرح ڈبلیو ٹی آئی کروڈ نے آج 90 ڈالر فی بیرل کی سطح کو عبور کر کے 90.38 ڈالر فی بیرل کی سطح سے کاروبار کی شروعات کی۔ تھوڑی دیر میں ہی یہ اضافے کے ساتھ 90.71 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا۔ حالانکہ بعد میں اس کی قیمت میں معمولی گراوٹ بھی درج کی گئی۔ ہندوستانی وقت کے مطابق 9.15 بجے ڈبلیو ٹی آئی کروڈ 89.47 ڈالر فی بیرل کی سطح پر کاروبار کر رہا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سیز فائر کا اعلان ضرور کیا ہے، لیکن ہرمز اسٹریٹ میں ناکہ بندی جاری رکھنے کی بات بھی کہی ہے۔ مطلب سیز فائر کے باوجود اس اہم سمندری راستے سے مال بردار جہازوں اور آئل ٹینکرز کا آنا جانا ممکن نہیں ہو سکے گا۔ ایسی صورتحال میں پوری دنیا میں خام تیل کی سپلائی میں پریشانی جاری رہے گی۔

کیپیکس گولڈ اینڈ انویسٹمنٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کے سی ای او راجیو دتا کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے دوسرے دور کے امن مذاکرات بھی ادھرمیں لٹک گئے ہیں۔ امریکہ کے نائب صدر کا امن مذاکرات کے لیے ہونے والا دورہ پاکستان بھی ٹل گیا ہے۔ ایسی صورتحال میں مغربی ایشیا میں جلد امن ہونے کی امید پر بھی منفی اثر پڑا ہے۔

مغربی ایشیا میں کشیدگی جاری رہنے کی وجہ سے خام تیل کی سپلائی مسلسل متاثر ہو سکتی ہے۔ اس وجہ سے بین الاقوامی بازار میں خام تیل ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل کی سطح کے قریب پہنچ گیا ہے۔ راحت کی بات یہی ہے کہ امریکہ فی الحال سیز فائر کو آگے بڑھائے رکھنے کے لیے رضامند ہو گیا ہے۔ اس لیے دونوں فریقین کی جانب سے فی الحال ایک دوسرے پر کسی بڑے حملے کی امید نہیں ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande