ریاستی درجے کی بحالی میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہئے ۔عمر عبداللہ
ریاستی درجے کی بحالی میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہئے ۔عمر عبداللہ جموں، 21 اپریل (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکز سے ریاست کا درجہ بحال کرنے کے حوالے سے واضح ٹائم لائن دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ مزید تاخیر کا ش
Omer


ریاستی درجے کی بحالی میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہئے ۔عمر عبداللہ

جموں، 21 اپریل (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکز سے ریاست کا درجہ بحال کرنے کے حوالے سے واضح ٹائم لائن دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ مزید تاخیر کا شکار نہیں ہونا چاہیے کیونکہ عوام نے انتخابات میں اس کے حق میں ووٹ دیا تھا اور یہ ایک اہم وعدہ بھی تھا۔ راجوری کے نوشہرہ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے جموں و کشمیر کے عوام سے ریاستی درجہ بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا، جس کے تحت پہلے حد بندی، پھر انتخابات اور اس کے بعد ریاستی درجہ دینے کی بات کی گئی تھی، تاہم اب اس وعدے سے پیچھے ہٹا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی جانب سے مناسب وقت پر ریاستی درجہ بحال کرنے کی بات کی جا رہی ہے، مگر یہ واضح نہیں کیا جا رہا کہ یہ مناسب وقت آخر کب آئے گا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ عوام کو اس کے لیے مزید کیا کرنا ہوگا۔ وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ نیشنل کانفرنس کے رہنماؤں کے اہل خانہ اور قریبی افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ بی جے پی سیاسی میدان میں مقابلہ نہیں کر پا رہی۔

انہوں نے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری کے بھائی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ترقی روک دی گئی اور انہیں لداخ منتقل کر کے مختلف طریقوں سے نشانہ بنایا گیا۔

عمر عبداللہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی حکومت انتخابات کے دوران کیے گئے تمام وعدے پورے کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیلی ویجرز کو مستقل کیا جائے گا اور آنگن واڑی و آشا ورکروں کے اعزازیہ میں اضافہ کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے کئی وعدے پہلے ہی پورے کر دیے ہیں، جن میں غریب خاندانوں کو چھ مفت گیس سلنڈر اور خواتین کے لیے بسوں میں مفت سفر کی سہولت شامل ہے۔ خواتین ریزرویشن بل کے حوالے سے انہوں نے مرکز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 2023 میں منظور شدہ بل پر تمام اپوزیشن نے حمایت کی تھی، مگر بعد میں ایک نیا بل لا کر اسے محض دکھاوے کے طور پر پیش کیا گیا۔ انہوں نے جموں و کشمیر میں حالیہ حد بندی کے عمل پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بی جے پی کی مرضی کے مطابق کیا گیا، جس کے نتیجے میں نئی بنائی گئی سات نشستوں میں سے چھ پر بی جے پی کامیاب رہی۔

ہندوستھان سماچار

--------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande